تحریک لبیک نے مذہبی سیاسی جماعتوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

پاکستان کی ابھرتی ہوئی مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک نے ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد جنم لیا، گزشتہ برس راولپنڈی میں فیض آباد کے مقام پر تحریک لبیک کے دھرنے نے پاکستان کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں ایک ہل چل سی مچادی تھی، ڈیڑھ سال کے اس عرصے میں تحریک لبیک ایک مضبوط مذہبی جماعت کے طور پر سامنے آئی، بہت ہی کم عرصے میں اس جماعت نے بہت سی مذہبی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ کر ملک کے سیاسی حلقوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔

ملک میں ہونے والے 25 جولائی کے عام انتخابات میں (ٹی ایل پی) بھرپور طریقے سے حصہ لے رہی ہے، پورے ملک سے قومی و صوبائی اسمبلی کی تقریباً 566 نشستوں پر ٹی ایل پی نے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں جن میں خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔

شہر کراچی میں ان دنوں انتخابی گہما گہمی عروج پر ہے، عروس البلاد میں تحریک لبیک کی سیاسی سرگرمیاں دیکھ کر تاثر کچھ ایسا مل رہا ہے کہ یہ تنظیم شہر قائد میں جماعت اسلامی کی متبادل ثابت ہوسکتی ہے تاہم اس بات پر حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں مذہبی جماعتوں میں سے کون معرکہ سر کرنے میں کامیاب ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار توصیف احمد خان کے مطابق اچانک ایک واقعہ پر بننے والی تنظیم اب ابھر کر سامنے آنے لگی ہے، ٹی ایل پی خاص طور پر نچلے و درمیانے طبقے کی تاجر برادری میں کافی مقبول ہورہی ہے، اسی طرح غریب طبقات میں بھی ان کی خاصی اٹھان نظر آتی ہے، جس کا فوری نقصان متحدہ مجلس عمل کو ہوگا۔

 

JAMAT E ISLAMI

POLLING

Election 2018

TLP

#GE2018

Tehrik-e-Labbbik Pakistan

Allama Khadim Hussain Rizvi

Tabool ads will show in this div