کیا اسٹیبلشمنٹ نوازشریف کو جتوانا چاہتی ہے؟

تحریر: عمران راجپوت

اِس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی سیاست میں پس پردہ قوتوں کا شروع دن سے عمل دخل رہا ہے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں ہر زباں زدِ عام ہے۔ اب وہ قوتیں چاہے پاکستان کی سول بیوروکریسی کی صورت میں ہوں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی صورت میں ہوں یا پھر بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی شکل میں ہو کسی نہ کسی صورت میں اِن کا کردار پاکستان کی سیاست میں ضرور رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ابھی تک صحیح معنوں میں پنپنے نہیں پائی جس کے باعث پاکستانی سیاست میں اصولی سیاست اپنانے کے بجائے سیاسی گٹھ جوڑ کو ہی اہمیت دی جاتی ہے جس کے باعث پاکستان میں سیاسی رسہ کشی اور جوڑ توڑ کا میلہ سالہا سال لگا رہتا ہے۔

دیکھا جائے تو پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حکمران جماعت نے اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد انتخابات جیت کر دوبارہ اپنی حکومت بنائی ہو۔ اب تک کسی سیاسی جماعت نے ایسا کرکے نہیں دکھایا۔ بلکہ ایسا کرنا تو دور کی بات کوئی بھی برسراقتدار آنے والی جماعت اپنی آئینی مدت پوری کرلے تو بڑی بات سمجھی جاتی ہے۔ اِس امر پر اگر غور کیا جائے تو دو وجوہات سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ ماضی قریب کے دو ادوار چھوڑ کر کسی بھی حکمران جماعت کو اُسکی آئینی مدت پوری ہی نہیں کرنے دی گئی۔ جبکہ ماضی قریب کی جن دو جماعتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی اُن ادوار میں بھی اُنکے وزرائے اعظم کو نااہل قرار دے کر تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔ بجائے اِس کے کہ حکمران جماعت کے ساتھ مل کر کام کیا جاتا اپوزیشن جماعتیں ہمیشہ حکومت کو کمزور کرنے اور اسکے خاتمے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہیں۔

دوسری وجہ یہ کہ جب حکمران جماعت کو اس کی آئینی مدت پوری ہی نہیں کرنے دی جائیگی تو وہ کارکردگی کیا دکھائی گی۔ لہذا بیڈ گورننس کی بنیاد پر حکمران جماعت کو عام انتخابات میں ہمیشہ شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اِس طرح اپوزیشن جماعت کے ہاتھ اقتدار لگ جاتا ہے۔ سیاستدانوں کی آپسی رسہ کشی نے جتنا نقصان جمہوریت کو پہنچایا ہے شاید ہی کسی اور نے پہنچایا ہو جبکہ عوامی نقطہ نظر کے مطابق ہمیشہ گمان یہی کیا جاتا ہے کہ اِس سب کے پیچھے کسی خلائی مخلوق کا ہاتھ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سیاستدان جو اپنی تمام تر دماغی صلاحیتوں کے ساتھ سیاست میں اتنا متحرک کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں وہ اچانک اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اِس قدر بدھو کیسے بن جاتے ہیں کہ جس ڈالی پر بیٹھے ہوتے ہیں اُسے ہی کاٹ ڈالنے کی حامی بھر لیتے ہیں۔ ووٹ کی عزت پامال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی بالادستی کا سودا کر ڈالتے ہیں۔

آج بھی اگر سیاسی صورتحال پر نظر ڈالیں تو سیاستدان اپنی وہی پرانی روش اپنائے دکھائی دیتے ہیں۔ دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ گو کہ مسلم لیگ ن کو یہ تیسری بار اقتدار ملا تھا اور پچھلے دونوں حکومتی ادوار کے حوالے سے مسلم لیگ ن کا ماضی اچھا نہ تھا لیکن اِس بار اقتدار ملنے کے پہلے سال ہی مسلم لیگ ن نے نہ صرف ماضی سے ہٹ کر ایک بہتر انداز میں حکومتی معاملات چلائے بلکہ گڈ گورننس کی اعلی مثال بھی قائم کرکے دکھائی لیکن حکومت نے جیسے ہی اپنا ایک سال مکمل کیا اپوزیشن جماعتوں نے ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حکمراں جماعت کے خلاف ایک محاز کھڑا کردیا جس کے بعد حکمراں جماعت کے لیے حکومتی معاملات چلانا نہ صرف مشکل ہو گئے بلکہ مسلم لیگ ن کے قائد کو اپنے خلاف کرپشن کے کیسز کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ اِس کے پیچھے بھی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ اب اِس بات میں کتنی صداقت ہے اِس سے قطعہ نظر عوام میں پھیلا یہ منفی پروپیگنڈہ مسلم لیگ ن کےلیے انتہائی مفید ثابت ہورہا ہے۔ اِس بات کو لیکر مسلم لیگ ن عوامی حلقوں میں کافی ہمدردیاں سمیٹتی نظر آتی ہے۔ آج بھی جب کسی سے پوچھتا ہوں ووٹ کس کو دو گے تو سیاسی منظرنامہ کچھ اور حقیقت پیش کرتا نظر آتا ہے۔

اِس بات میں کوئی شک نہیں سیاسی اسٹیج پر اِس وقت ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نظر آتی ہے۔ لیکن عمران خان نے جس طرح امپائر کو اپنے ساتھ ملانے کا تاثر قائم کر رکھا ہے اِس تاثر نے پاکستان تحریک انصاف کی ساکھ کو متاثر ضرور کیا ہے۔ عمران خان کا اِس تاثر کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ امپائر اگر واقعی کہیں کھڑا بھی ہے تو یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کے وہ کہاں اور کس کے ساتھ کھڑا ہے۔ امپائر جیت کا سہرا کس کے گلے میں دیکھنا چاہتا ہے یہ چیز معنی رکھتی ہے۔ کیونکہ امپائر یہ بات بخوبی جانتا ہے پولنگ بوتھ میں عوام اُس کے کہنے پر نہیں اپنے دل کی آواز پر ٹھپہ لگاتے ہیں۔

PTI

Politics

IMRAN KHAN

establishment

democratic system

Tabool ads will show in this div