ایچ آر سی پی کا مستونگ اور پشاور کے سانحات پر خاموش مظاہرہ

کوئٹہ میں انسانی حقوق کمیشن کے زیر اہتمام  سانحہ مستونگ اور پشاور کے زیر اہتمام خاموش مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے دونوں سانحات  کو الیکشن سبوتاژ کرنے کی سازش اور الیکشن سے پہلے دھاندلی کی سازش قراردیدیا

مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے جلسے اور پشاور میں اے این پی کےرہنماء ہارون اختر بلور پر خود کش حملوں کے خلاف نعرے درج تھے ، مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن کے رہنمائوں جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ اور دیگر نے کہا کہ دو سے زائد افراد کی ہلاکت قابل مذمت ہے ،خاص طور پر مستونگ خودکش دھماکہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ اور قتل عام تھا ۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے جان ، مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ریاستی ادارے اپنے فرائض کے انجام دہی میں ناکام نظر آرہے ہیں ، سانحہ مستونگ کے بعد انتظامیہ سکون سے بیٹھی ہے ایک بھی اہلکار کو معطل نہیں کیا گیا ، سیکورٹی ادارے دہشت گردی کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیتے ہیں لیکن ان کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات نہیں کرتے۔

ایچ آر سی پی کے رہنمائوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ  دونوں واقعات الیکشن کو سبوتاژ کرنے اور الیکشن سے قبل دھاندلی کی سازش ہو سکتے ہیں ،الیکشن لڑنا اور ووٹ کاسٹ کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے ،ایسے واقعات سے لوگوں کےدلوں میں اپنی جان و مال سے متعلق سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔

تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات سے سیاسی جماعتیں کھڈے لائن لگ چکی ہیں،فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے رہنمائوں نے مطالبہ کیا حکومت الیکشن میں امیدواروں کی فول پروف سیکورٹی یقینی بنائے ، فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو الیکشن لڑنے کی اجازت پر نظر ثانی کی جائے اور مستونگ دھماکے کے زخمیوں کی مالی مدد کی جائے

 

security forces

Election 2018

Mastung Attack

Tabool ads will show in this div