دس سالہ جمہوری دورکےبعدبھی مسائل حل نہ ہوسکے

Jul 18, 2018
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/07/NF-Democracy-Failures-PKG-17-07-1.mp4"][/video]

انتخابات 2018 ميں سياسي جماعتيں ووٹرز کيلئے خوابوں،وعدوں کي دکانيں سجارہي ہيں۔دس سالہ جمہوري دورمکمل ہونےکےبعداپني ناکاميوں پر سياسي جماعتوں کے پاس کوئي بہانہ نہيں رہا۔

سال 2008 میں جنرل پرويز مشرف کي آمريت کااختتام ہواتھا۔سال 2008ميں پيپلزپارٹي نےانتخابات جيتےاورجمہوري حکومت کا عہد مکمل کيا۔پہلي بارجمہوري سيٹ اپ منتقل ہوا۔سال 2013ميں نواز ليگ نےانتخابات جيت کراقتدار سنبھالا۔سال 2018ميں معاملات نگراں حکومت کےسپردکيے۔

دو بڑي جماعتوں نے دو جمہوري ادوارمکمل کيے لیکن مسائل حل نہ ہوئے۔يہ مکمل جمہوري ادوار'کم کام'اور'زيادہ ناکام' کا نمونہ بن کر سامنے آئے۔ورلڈ بينک کنٹري اکنامک ميمورينڈم دوہزارتيرہ ميں نوٹ لکھا گيا کہ پيپلزپارٹي کا ناکام طرز حکمراني اوربدترين سول سروس نے معاشي پيداوارکو نقصان پہنچايا۔

ایک بین الاقوامی ادارے کی جائزہ رپورٹ دوہزار تيرہ ميں جاننا چاہا کہ معاشي ترقي ميں کيا رکاوٹ حائل ہوئي توجواب آيا 'کرپشن'،نااہل قيادت،ناکام حکومت آڑے آگئی۔سال 2008 سے گيارہ پاکستاني معيشت کے بدترين سال تھے۔۔ دوہزار تيرہ تک پيپلزپارٹي کي حکومت معاشي طورپرجمود کا شکاررہي۔ن ليگ کي حکومت کے دعوے پانچ سال بعد بھي دعوے ہي رہے۔زراعت کي پيداوارکا چار فيصد کا ہدف پورا نہ کيا جاسکا۔تعليم اور صحت کے شعبوں ميں مقرر اہداف حاصل نہ کيے جاسکے۔انتخابي منشور کے برخلاف وزيراعظم ہاؤس اور ايوان صدرکي شاہ خرچياں آسمانوں پرپہنچ گئيں۔

اپوزيشن رہنما شيري رحمان بھي چيخ اٹھيں کہ کياايوان صدرميں سونے کے سموسے کھائے جارہے ہيں۔ن ليگ حکومت ميں غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا۔اکتیس مئی تک قرضوں کا حجم اکانوے ارب سڑسٹھ کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا۔

دونوں مکمل جمہوري ادوارکے بعدآنے والي کسي بھي جمہوري حکومت کيلئے ايسي مشکلات کھڑي ہوئيں ہيں کہ چلنامحال نظرآرہا ہے۔

elections 2018

Tabool ads will show in this div