سانحہ مستونگ میں شہید ہونے والوں کے خاندان کسمپرسی کا شکار

سانحہ مستونگ میں شہید ہونےوالوں میں بیشتر کا تعلق انتہائی غریب گھرانوں سے تھا،ستر سالہ جان محمد کے دو جوان بیٹے اور بھتیجا بھی واقعہ میں شہید ہوئے،بڑھاپے کا سہارا چھن جانے پہ ضعیف  العمر باپ غموں سے نڈھال ہیں

آنکھوں میں نمی لئے رنج و غم کی تصویر بنے تیرا مل دشت کے ستر سالہ جان محمد کے دو جوان بیٹے عبدالحق اور امام دین مستونگ بم خودکش بم دھماکے میں جان کی بازی ہار گئے۔ بھتیجا عبدالسلام بھی شہید ہوا۔ غموں کے بوجھ نے جان محمد کی کمر کو اور جھکادیا ہے۔ بیٹوں اور بھتیجے کی شہادت کے ساتھ ساتھ آٹھ پوتوں کی دیکھ بھال کا غم بھی انہیں کھائے جارہا ہے۔

شہید عبدالحق اور شہید امام دین کے والد کا کہنا ہے کہ مزدوری کرکے اپنے بچوں کو کھلاتے تھے ، چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان کے,عبدالحق کے پانچ اور امام دین کے تین بچے ہیں،مزدوری کرتے تھے ،اب کھلے آسمان تلے آگئے ہیں اور بے سہارا ہوگئے ہیں

زندگی بھرکے لئے پیاروں کے بچھڑنے کا غم اپنی جگہ مگر کھلے آسمان تلے جھونپڑیوں میں مکین خاندان پر پہلےسے موجود معاشی بدحالی کے سایے مزید گہرے ہوگئے ہیں۔اُن کا شکوہ ہے کہ غم باٹنے کوئی قومی رہنماء نہیں آیا۔

عمر بھر اینٹوں کے بٹھوں پر کام کرنےوالے عبدالحق اور امام دین اپنے بچوں کو چھت فراہم کرنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اب بے سہارا بچوں کے دکھوں کا مداوا کون کرے گا کوئی نہیں جانتا۔

sucide attack

Mastung Attack

Tabool ads will show in this div