لاش پر سیاست ،عوام کی کمر،فنڈز کے قیام کا اعلان

میرے بھائی کی لاش پر سیاست کرنے والوں کو تنبیہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی سیاست کے ڈبے کو سراوان ہاؤس سے کہیں دور جاکر رکھیں، نواب محمد اسلم خان رئیسانی

روزنامہ ایکسپریس کوئٹہ

سانحہ مستونگ کے بعد اپنا ایک پالیسی بیان دیتے ہوئے نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا کہ میرے خاندان اور قبیلے نے بہت قربانیاں دی ہیں ہمیں کسی سے کوئی سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں میرے بھائی کی لاش پر جس طرح کچھ لوگ اپنی سیاست چمکا رہے ہیں ان کو کہتا ہوں کہ وہ باز آجائیں اپنے بھائی کی لاش کو کسی کی سیاسی دکانداری کے لئے شوپیس نہیں بنانا چاہتا اس دکھ اور کرب کی گھڑی میں ہمیں مزید اپنی گھٹیا سیاست کا حصہ نہ بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کو سیاست اور الیکشن میں جیتنے کی آس لگی ہے وہ اپنی دکان کو ساراوان ہاؤس سے دور جاکر لگائیں ہمیں ان کی فتح اور شکست سے کوئی غرض نہیں آگ جہاں لگتی ہے تپش وہی پر ہوتی ہے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردی کو اس ملک میں پروان چڑھایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی یہ بھول ہے کہ وہ اپنی منفی سیاست کے ذریعے رئیسانی قبیلے میں یا ہمارے خاندان میں دراڑیں پیدا کر سکتے ہیں یہ ان کی بھول ہے ہم آج بھی اپنے دوست اور دشمن کو اچھی طرح پہنچاتے ہیں اور جنہوں نے ہمارے پیٹھ پیچھے وار کیا ہے جلد ان کو بے نقاب کریں گے۔

کمر دہشت گردوں کی نہیں بلکہ عوام کی توڑ دی گئی ہے، نوابزادہ لشکری رئیسانی

روزنامہ باخبر کوئٹہ

 بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ سانحہ مستونگ کی تحقیقات کے لئے ایک غیرجانبدارانہ کمیشن قائم کیا جائے اور اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ درینگڑھ میں کون لوگ آئے تھے اور لوگوں نے اس کا اہتمام کیا تھا نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت 200 سے زائد میرے بھائی ہم سے جدا ہوئے ہیں جن کا غم ہم نہیں بھلا سکتے ان کا مزید کہنا تھا کہ عرصہ سے ہم سن رہے ہیں کہ ملک میں امن قائم ہو گیا ہے یقیناً امن قائم ہوا ہوگا اس امن کے لئے بلوچستان کو قربان کیا جارہا ہے بلوچستان آج بھی امن کا متلاشی ہے بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ 200 سے زائد مرتبہ دعویٰ کرتے رہے کہ ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے لیکن ہمیں تو ایسا لگ رہا ہے کہ کمر دہشت گردوں کی نہیں بلکہ عوام کی توڑ دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب غیرجمہوری لوگوں کو سیاستدان بنا کر سامنا لایا جاتا ہے تو انہیں صرف اپنے ووٹ بینک کی فکر ہوتی ہے ان کے لئے یہ قتل عام کوئی معنی نہیں رکھتا بلوچستان میں عرصہ سے ہم اپنے لوگوں کی لاشیں اٹھاتے رہے ہیں ۔ہم نے امن کو کہیں نہیں دیکھا صوبہ میں شیعہ سنی کے نام پر تو کبھی پولیس کیڈٹ کو تو کبھی قبائلی رہنماؤں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں امن آگیا ہے انہیں بلوچستان کے امن کی کوئی فکر نہیں کیونکہ وہ بلوچستان کو اس ملک کا حصہ ہی سمجھنے سے قاصر ہیں۔

شہر کے بارہا دوروں کے باوجود مسائل حل نہیں ہو پارہے،علاؤالدین مری

 روزنامہ آزادی کوئٹہ

نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری نے کہا ہے کہ سخت ترین فیصلے کئے بغیر کوئٹہ کی صورتحال کو بہتر نہیں بنایا جاسکتا، متعلقہ اداروں میں عزم کی کمی ہے جس کی وجہ سے شہر گوناگوں مسائل کا شکار ہے،جن کے حل کے لئے ہر متعلقہ ادارے اور ان کے حکام کو بھرپور عزم کرنا ہوگا ،ہم نہیں چاہتے ایسے سخت فیصلے کریں جن سے کسی کو نقصان پہنچے لیکن شہر اور شہریوں کو اس حالت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اچانک شہر کے دورے کے بعد ہنگامی بنیادوں پر طلب کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں وفاقی وزیر ریلوے روشن خورشید بروچہ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن، ڈی آئی جی کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، ایس ایس پی ٹریفک، ڈی ایس ریلوے اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ جب سے وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ہیں انہوں نے بارہا شہر کے دورے کر کے صورتحال کا جائزہ لیا اور صفائی ، ٹریفک کی صورتحال سمیت دیگر شہری مسائل کے حل کے لئے ہدایات بھی جاری کیں لیکن یہ امر فسوسناک ہے کہ اس کے باوجود صورتحال کی بہتری کے لئے خاطرخواہ اقدامات نظر نہیں آرہے ، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج کے اجلاس میں کئے گئے تمام فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور اس حوالے سے وہ کسی قسم کی کوتاہی اور تساہل برداشت نہیں کریں گے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث شہریوں کو روزانہ مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں سب سے اہم بے ہنگم ٹریفک ، ماحولیاتی آلودگی اور صفائی کی صورتحال ہے، جبکہ پارکنگ کی سہولتوں کی عدم دستیابی بھی ٹریفک کے دباؤ کا سبب ہے حتیٰ کہ ایمبولینس کو بھی ایمرجنسی میں گزرنے کا راستہ نہیں ملتا، وزیراعلیٰ نے ایس ایس پی ٹریفک کو ہدایت کی کہ فوری طورپر جناح روڈ سمیت تمام اہم سڑکوں سے ڈبل پارکنگ ختم کی جائے عوام میں ٹریفک کا شعور اجاگر کرنے کے لئے آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے جبکہ وزیر اعلیٰ نے کمشنر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ تجاوزات کو فوری ختم کرنے کے لئے آپریشن شروع کیا جائے

سانحہ مستونگ کی بحالی کے فنڈز کے قیام کا اعلان

روزنامہ جنگ کوئٹہ

سانحہ مستونگ کی بحالی کے فنڈز کے قیام کا اعلان نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری نے سانحہ مستونگ کے متاثرین کی بحالی کے لیے وزیر اعلی بلوچستان ریلیف اینڈ ری ہیبلیٹیشن فنڈکے قیام کا اعلان کیا ہے جس کا مقسد سانحہ مستونگ کے متاثرین کی فوری بحالی اور ان کے گھر بچوں کو تعلیم صحت جیسی سہولیات کی فراہمی ہے، نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حوالے سے دل کھول کر اپنی عطیات دیں تاکہ اس مشکل گھڑی میں ان کے کام آیا جا سکے

 

Mastung Attack

allodeen marri

Nawab Aslam Raisani

Tabool ads will show in this div