پیپلز پارٹی کے امیدوار کی بی اے پی میں شمولیت

رپورٹ:ظہیر ظرف

وڈیرہ حسن جاموٹ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ سے پی بی 50 پر بی اے پی کے مرکزی صدر جام کمال کا مقابلہ کر رہے تھے،جنہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں جام کمال سے ملاقات کر کے اپنی دستبرادری اور جام کمال کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

بلوچستان میں ضلع لسبیلہ کی سیاست میں ایک نیا موڑ آگیا،کل کے حریف حلیف بن گئے،لسبیلہ کی معروف سیاسی اور سماجی شخصیت وڈیرہ حسن جاموٹ نے بالاخر جام کمال کی حمایت کا اعلان کر دیا،اور ساتھ ہی پیپلز پارٹی سے اپنے چند ہفتوں کی رفاقت کو بھی خیرباد کہہ کر بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔

لسبیلہ کی سیاست میں گزشتہ ایک مہینے سے وڈیرہ حسن جاموٹ کی سیاست کے ہی چرچے ہو رہے ہیں،ان کی پیپلز پارٹی میں شمولیت اور پھر پارٹی قیادت کے فیصلے سے انحراف کرتے ہوئے آزاد امیدوار محمد اسلم بھوتانی کی حمایت کے بعد جہاں وہ بہت زیادہ خبروں میں رہے،وہیں انھیں  پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر شو کاز نوٹس اور بنیادی رکنیت کی معطلی کا سامنا بھی کرنا پڑا،مگر انھوں نے ان تمام تر سختیوں کو پس پشت ڈال کر محمد اسلم بھوتانی جو کہ نیشنل اسمبلی کے حلقے سے بی اے پی کے مرکزی صدر جام کمال خان کے مقابلے میں آزاد امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے  کی حمایت کا اعلان کر کے لسبیلہ کے سیاسی پنڈتوں کو حیران کیا،مگر اس اعلان کے بعد سے ہی وہ لسبیلہ کے سیاسی پس منظر سے غائب ہوگئے تھے،زرائع کا کہنا ہے کہ انھیں محمد اسلم بھوتانی کی حمایت کے بعد بہت زیادہ دباؤ کا سامنا تھا،اور شاید اسی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ وہ دو ہفتوں کی خود ساختہ گوشہ نشینی کے بعد اچانک سامنے آگئے اور انھوں نے کوئٹہ میں بی اے پی کے مرکزی صدر اور حلقہ پی بی 50 سے امیدوار جام کمال سے ملاقات کر کے ان کے حق میں دستبرداری اور بی اے پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔اوراس طرح انھوں نے ایک ہی مہینے میں تیسرا یو ٹرن بھی لے لیا ۔

ان کی جام کمال خان کے حق میں دستبرداری اور بی اے پی میں شمولیت کو لسبیلہ کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ملے جلے رد عمل کا سامنا ہے۔

Election 2018

Balochistan Awami Party

JAM KAMAL

aslam bhootani

Tabool ads will show in this div