ایفی ڈرین کیس سے متعلق حنیف عباسی کی سپریم کورٹ میں درخواست مسترد

ایفی ڈرین کیس کافیصلہ 5روزمیں سنائےجانےکےہائی کورٹ کےفیصلےکےخلاف حنیف عباسی کی سپریم کورٹ میں کی گئی درخواست مستردکردی گئی۔

سپریم کورٹ میں ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت کی۔حنیف عباسی کی ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا مستردکردی۔ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو 21 جولائی کو فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےریمارکس دئیے کہ ہائی کورٹ کا حکم متفقہ تھا،عدالتی حکمنامہ فریقین کی رضا مندی سے جاری کیا گیا۔حنیف عباسی کےوکیل کامران مرتضیٰ نےکہاکہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق نہیں۔اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نےریمارکس دئیےکہ متفقہ حکمنامہ میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

حنیف عباسی کےوکیل نےکہاکہ ہائی کورٹ میں کوئی رضامندی نہیں دی،عدالت رضامندی والے الفاظ حذف کروانے کی اجازت دے۔جسٹس عظمت سعیدنےکہاکہ الفاظ حذف کروانے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کریں

ایفی ڈرین کیس کافیصلہ5روزمیں سنائےجانےکےحکم پرحنیف عباسی سپریم کورٹ پہنچ گئے

حنیف عباسی کےوکیل نےکہاکہ ہائی کورٹ نے غیر متعلقہ شخص کی درخواست پر فیصلہ کیا،الیکشن سے پہلے فیصلے کے حکم سے غلط پیغام جائے گا، ہائی کورٹ کو کیس کے فیصلے کا حکم دینے کا اختیار نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے مزیدریمارکس دئیےکہ حنیف عباسی خود کیس میں تاریخیں لیتے رہے ہیں،حنیف عباسی کہتے رہےکہ الیکشن ہے کیس ملتوی کیا جائے۔

ایفی ڈرین کیس میں حنیف عباسی مشکل میں آسکتےہیں

اس پرحنیف عباسی کےوکیل نےکہاکہ ہائی کورٹ کوکیس کے فیصلے کا حکم دینے کا اختیار نہیں۔ جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ آرٹیکل 203 کے تحت ہائی کورٹ کو مکمل اختیار حاصل ہے۔ حنیف عباسی کےوکیل نےدرخواست کی کہ

عدالت رضامندی کے الفاظ حذف کروانے تک کیس ملتوی کرے۔ جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ ہمیں الیکشن سے نہیں قانونی نکات سے غرض ہے۔سپریم کورٹ نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

Ephedrine Case

Hanif Abbassi

Tabool ads will show in this div