اٹک،ن لیگی رہنما شیخ آفتاب کی گاڑی پر فائرنگ

Jul 17, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/07/ATTOCK-ATTACK-ON-PMLN-CANDIDATE-16-07.mp4"][/video]

اٹک ميں اين اے پچپن سے ليگي اميدوارسابق وفاقي وزير شيخ آفتاب کي گاڑي پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ فائرنگ سے گاڑي کے شيشے ٹوٹ گئے۔ شيخ آفتاب کارنر ميٹنگ کرکے واپس جارہے تھے۔

پولیس کے مطابق اٹک میں سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ آفتاب احمد صدیقی کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے۔

 

گاڑی میں ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی موجود تھا۔ فائرنگ میں شیخ آفتاب اور ان کا بیٹا دونوں محفوظ رہے۔ شیخ آفتاب بیٹے کے ہمراہ کارنر میٹنگ سے گھر کی جانب رواں دواں تھے۔

 

پولیس کے مطابق شیخ آفتاب حلقے میں انتخابی مہم سے واپس آرہے تھے کہ گھات لگائے نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کا واقعہ تھانا سٹی کی حدود میں پیش آیا۔ فائرنگ سے گاڑی میں سوراخ ہوگئے ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول برآمد کرلیے۔ واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فائرنگ کے وقت چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری چند کلومیٹر کے فاصلے پر اٹک میں موجود تھے۔

 

واضح رہے کہ رواں ماہ اسے قبل بھی الیکشن مہم، کارنر میٹنگز اور انتخابی امیدواروں پر متعدد بار کئی حملے کیے گئے ہیں۔ 3 جولائی کو شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں بھی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 میں پی ٹی آئی کے امیدوار کی انتخابی مہم کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

[caption id="attachment_1195082" align="aligncenter" width="640"] photo source: Samaa/Khan Zamir[/caption]

7 جولائی کو کے پی کے ضلع بنوں کے علاقے تختی خیل میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے انتخابی امیدوارکے قافلے پر بم دھماکے سے امیدوار سمیت 7 افراد زخمی ہوئے تھے۔

دس جولائی کو پشاور کے علاقے یکہ توت میں خود کش حملے کے دوران اے این پی کے انتخابی امیدوار ہارون بلور سمیت 22 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوئے ۔ ہارون بلور صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 78 سے انتخاب لڑ رہے تھے۔ بعد ازاں 13 جولائی کو بنوں میں ہی جے یو آئی فے کے رہنما اور ایم ایم اے کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والے سابق وزیراعلیٰ کے پی اکرم درانی کو کارنر میٹنگ کے اختتام پر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اکرم درانی کے قافلے کے قریب دھماکے میں 5 افراد جاں بحق، جب کہ 35 افراد زخمی ہوئے۔ اکرم درانی این اے 35 سے عمران خان کے خلاف انتخابات لڑ رہے ہیں۔

اس الیکشن میں سب سے اندوناک واقعہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں پیش آیا، جہاں انتخابی جلسے اور کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملے میں 130 سے زائد افراد جاں بحق، جب کہ 150 سے زائد زخمی ہوئے۔ خود کش حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے بھائی سراج رئیسانی بھی شہید ہوئے۔

ATTOCK

MASTUNG

Election2018

na 55

assassination attempt

siraj raisani

Sheikh Aftab

Tabool ads will show in this div