کالمز / بلاگ

انتخابات اور خون میں لت پت پاکستان

عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد جس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا وہی ہوا۔ پشاور میں ہونے والے خودکش دھماکے میں شہید بشیر بلور کے بیٹے اور اے این پی کے امیدوار ہارون بلور سمیت 22 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ابھی پشاور خودکش حملے میں ہارون بشیر بلور اور دیگر شہداء کی قبر کی مٹی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بنوں میں سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کے قافلے پر بم حملہ ہوا اور پھر دہشتگردوں نے بلوچستان کے شہر مستونگ کو خون میں نہلا دیا جہاں انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے میں سابق وزیراعلی نواب اسلم رئیسانی کے بھائی اور بے اے پی کے امیدوار سراج رئیسانی سمیت 190 سے زائد افراد شہید جبکہ 200 کے قریب زخمی ہوگئے۔

پشاور، بنوں اور مستونگ میں دہشتگردی کے واقعات میں ہارون بلور اور سراج درانی سمیت 225 سے زائد افراد کی شہادت اور ملک کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ فوری طور پر الیکشن ملتوی کرنے کا اعلان کرے کسی اور ملک میں اتنا بڑے پیمانے پر قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوتا تو وہاں ایمرجنسی نافذ کردی جاتی۔

ملکی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ خیبر پختونخوا سب سے غیر محفوظ صوبہ ہے جہاں ایک جماعت کے علاوہ کسی بھی جماعت کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر پشاور اور مالاکنڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی، دیر میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی ریلی پر بھی فائرنگ ہوئی جس میں وہ محفوظ رہے۔ انتخابات سے پہلے ملک میں ہر طرف افراتفری کا عالم ہے اور یکے بعد دیگرے دہشتگردی کے واقعات کے باعث عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی کارنر میٹنگ، ریلیوں اور جلسے جلوسوں میں عوام کا رجحان کم دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اطلاعات ہیں کہ انتخابات سے قبل مزید اہم شخصیات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس لئے ووٹروں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

مستونگ میں دہشتگردی کے اتنے بڑے واقعے کے بعد کسی حکومتی ذمہ دار نے استعفی نہیں دیا۔ جب ایسے واقعات منتخب حکومتوں کے دور میں ہوتے تھے تو اسے وفاقی یا صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دیا جاتا تھا مگر اب اتنے بڑے سانحہ کے بعد کوئی بھی حکومتی یا انتظامی عہدیدار ناکامی قبول کرنے کے لئے اور استعفی دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ نیکٹا کی وارننگ کے باوجود نگران حکومتیں امن و امان قائم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں اور ایسے حالات میں الیکشن کا پرامن انعقاد ممکن نظر نہیں آرہا۔ سانحہ مستونگ کے بعد نیکٹا کے سربراہ ڈاکٹر سلمان نے کہا ہے کہ عام انتخابات کو کوئی سنجیدہ خطرہ نہیں۔ چند دنوں میں دہشتگردی کے تین واقعات میں دو امیدواروں سمیت لگ بھگ 250 افراد کی اموات کے بعد نیکٹا کے سربراہ کا یہ بیان انتہائی حیران کر دینے والا ہے، شاید ان کی نظر میں سنجیدہ نقصان وہ ہوگا جب خدانخواستہ کوئی مرکزی سطح کا سیاستدان دہشتگردوں کا نشانہ بنے گس کیونکہ 250 عام انسانوں کی شہادت ان کی نظر میں سنجیدہ نقصان نہیں۔

میں ایک جمہوریت پسند شخص ہوں اور چاہتا ہوں کہ جمہوری عمل یونہی چلتا رہے مگر یہ وقت انتخابات کے لئے سازگار نہیں اس لئے انتخابات اگر دو یا تین ماہ کی تاخیر سے ہوں تو کوئی حرج نہیں۔ میں سمجھتا ہوں اس وقت ہم حالت جنگ میں ہیں اور یہ وقت سیاسی جماعتوں سے وفاداری نبھانے کا نہیں بلکہ ملک و قوم سے وفاداری نبھانے کا وقت ہے۔ آئیں، آگے بڑھیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں اور دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

ELECTION

Genral election

Tabool ads will show in this div