نیب سربراہ پی پی کے خلاف ہیں، زرداری پر تمام کیسز جھوٹے ہیں، بلاول

photo source: Twitter/Umar

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے پچیس جولائی کے بعد مخلوط حکومت بنی تو پیپلز پارٹی اپنے منشور کی بنیاد پر اس کا حصہ بنے گی۔ آصف زرداری اور فریال تالپور پر تمام کیسز جھوٹے ہیں۔ نیب کے سربراہ ہمارے مخالف ہیں ان کے خلاف شکایت کی ہے۔

کوئٹہ کے نجی ہوٹل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہباز شریف اور عمران خان کے ساتھ ہماری نظریاتی تفریق ہے۔ ہمارے درمیان معاشی، دہشتگردی اور انتہا پسندی پر ایشوز پر مخالفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان یو ٹرن خان ہیں وہ جس تبدیلی کی بات کرتے تھے وہ نہیں آئی۔ پی ٹی آئی کی بہت سی بیماریوں میں یو ٹرن لینا شامل ہے، جو قابل قبول نہیں۔ ن لیگ نے ہمیشہ دھوکا دیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بدقسمتی سے اٹھارویں ترمیم پر عملدرآمد نہیں ہوا اور نیا این ایف سی بھی نہیں دیا جاسکا۔ بلوچستان کے مسئلے کو پہلے بھی اجاگر کیا اب بھی کریں گے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا عوامی مفاد کا پروگرام لائیں گے۔ ہم نے پانی کا مسئلہ، زراعت اور بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنا ہے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جب تک کرپشن کو سیاسی فٹبال کی طرح کھیلیں گے تب تک معاملات حل نہیں ہوں گے۔ احتساب بلاتفریق سب کیلئے ایک ہونا چاہیے تب ہی ہم کامیاب ہوں گے۔

ان کے مطابق، سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور پر جھوٹا کیس بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا نیب کا سربراہ ہمارا مخالف ہے اس کے خلاف ہم نے شکایت کی ہے۔

انہوں نے کہا نیب سربراہ کا رشتہ دار الیکشن لڑ رہا ہے، اسکی جانب داری نظر آرہی ہے۔ جبکہ 1992 کی آئی جے ائی 2018 میں بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بلاول نے کہا کہ دہشتگردی اور خوف کی فضا نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پارلیمینٹرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔ دہشتگردی قومی مسئلہ ہے، امن و امان صوبائی معاملہ ضرور ہے مگر وفاق تمام ذمہ داری صوبوں پر نہیں ڈال سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سال 2013 میں کالعدم تنظیموں نے بعض ساسی جماعتوں کو فیورٹ قرار دیا۔ ان حالات میں امیدواروں پر بڑا پریشر ہے افغانستان، عراق میں انتخابات ہوسکتے ہیں تو ہماری عوام بھی انتہا پسندوں کو شکست دیں گے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے، دنیا ہمیں گرے لسٹ میں ڈال رہی ہے، ہمیں اپنے جوڈیشل اور معاشی نظام کو معاشرتی مطابقت کے ساتھ لیکر چلنا ہوگا۔ ہم نے سینیٹ میں اپنا سیاسی کردار ادا کیا اور سیاسی سوچ کا عملی مظاہرہ کیا۔ ہم ایک دوسرے کو محض گالیاں دے کر عوام کو ترقی نہیں دے سکتے۔

بلاول بھٹو زرادری نے کہا کہ سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا جھوٹ اور الزام کی سیاست کررہے ہیں۔ ہماری جماعت اور سندھ حکومت نے پانی کے مسئلے پر کام کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں سیاست کا رخ سرمایہ دارانہ نظام کی جانب موڑا جارہاہے جو ہم نہیں ہونے دیں گے۔

bilawal bhutto zardari

Mastung tragedy

Tabool ads will show in this div