بنوں دھماکہ، اکرم درانی نے پولیس سکیورٹی پر اطمینان کا اظہار کردیا

file photo.
file photo.
[caption id="attachment_1196512" align="alignnone" width="640"] file photo.[/caption]

سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اکرم خان درانی نے کہا کہ جے یو آئی کے جلسہ کیلئے پولیس نے تسلی بخش سکیورٹی کے انتظامات کئے تھے جس میں ہم مطمئن ہیں۔

اکرم درانی بنوں دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کیلئے ڈسٹرکٹ اسپتال بنوں پہنچے۔ اور اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کو زخمیوں کی خصوصی دیکھ بھال کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے زخمی افراد کے علاج معالجے کا خرچہ بھی خود اٹھانے کا اعلان کیا۔

دھماکا حوید بازار کی حدود میں ہوا، جو جانی خیل کے قریب اور شمالی وزیرستان کے علاقہ بھی لگتا ہے۔

اکرم خان نے کہا جلسہ سے واپسی پر میری گاڑی کے ار د گرد کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جونہی جلسہ گاہ سے ہم روانہ ہو ئے تو کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد دھماکہ ہو ا جس سے میری گاڑی کو نقصان پہنچا لیکن بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

انہوں نے کہا جانی نقصان پر بہت آفسوس ہے۔ صوبائی حکومت شہداء اور زخمیوں کو خصوصی پیکج جاری کریں۔

اُنہوں نے کہا کہ عوام کو حکومت کیساتھ تعاون کر نا چاہیئے جہاں کہیں بھی مشکوک گاڑی یا موٹر سائیکل دکان کے سامنے کوئی کھڑی کرے اور خود وہاں سے جائیں تو اسے موٹر سائیکل کھڑا نہ ہونے دیں کیونکہ یہ دوسرا واقعہ ہے جو موٹر سائیکل میں بارود نصب کیا گیا تھا۔

اُنہوں نے کہا ہے کہ ہم نے کسی سے ڈرنا نہیں جلسے کرنا ہیں جلوس کر نا ہیں اور سب سے پہلے اپنے پاکستان کا خیال رکھنا ہے اُنہوں نے کہا کہ ہم وہ لوگ نہیں جو دھماکے سے برطانیہ چلے جاتے ہیں۔ ہماری سانس عوام کے ساتھ ہو گی۔

ان کے مطابق، مغربی ہاتھ ہمارے ملک میں عدم استحکام پر تلا ہوا ہے۔ اہم شخصیات نشانے پر ہیں جتنی بھی اہم شخصیات ہیں اس کی سکیورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایک حملہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن اور دو دھماکے مجھ پر ہوئے جس میں ہمارے ادارے تفتیش میں ناکام ہو ئے ہیں کیونکہ آ ج تک ہمیں نہیں بتایا کہ دھماکہ کس نے کیا۔

اکرم درانی نے کہا کہ ہمیں صرف اتنی خبر ملتی ہیں کہ حالات ساز گار نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ غیر ملکی میڈیا پر چار روز پہلے خبر شائع ہوئی تھی کہ اکرم خان دُرانی کو خطرہ ہے۔ میں اس میڈیا سے پوچھتا ہوں کہ ہمیں خطرے سے متعلق خبر کے پیچھے کون ہیں جو حالات خراب کر رہے ہیں اور کہا ں سے آ ئے ہیں۔

اُنہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمیں ڈرایا تو جاتا ہے مگر عملی طور پر ادارے کچھ نہیں کر تے۔ آج بھی دھماکے کے بعد ہسپتال میں مشکوک شخص (نیلے رنگ کپڑے والا) کے داخل ہونے کی اطلاع تھی اگر اداروں کو ان کے کپڑے بھی معلوم ہیں تو اُنہیں گرفتار کیوں نہیں کر تی۔

Bannu Blast

akram khan durrani

Tabool ads will show in this div