جے یو آئی ف رہنما اکرم درانی کے قافلے پرحملہ،5 افراد جاں بحق

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/07/BANNU-13-07.mp4"][/video]

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم درانی کے قافلے کے قریب دھماکے میں 5 افراد جاں بحق، جب کہ 35 افراد زخمی ہوگئے۔ حملے میں اکرم درانی معجزانہ طور پر خود محفوظ رہے۔ اکرم درانی این اے 35 سے عمران خان کے خلاف انتخابات لڑ رہے ہیں۔ بنوں میں انتخابی مہم کے دوران ایم ایم اے امیدوار پر یہ دوسرا حملہ ہے۔

جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے سینیر رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ کے پی اکرم درانی انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ جلسہ اور  کارنر میٹنگ سے واپس اپنے دفتر جا رہے تھے کہ ان کے قافلے کے قریب ریمورٹ کنٹرول بم دھماکا کیا گیا۔ حملے میں اکرم درانی محفوظ رہے ہیں۔ دھماکا جلسہ گاہ سے 50  میٹردور ہوا۔ اکرم درانی اسی حلقے سے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر عام انتخابات 2018 میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔

دھماکے میں 5 افراد موقع پر جاں بحق، جب کہ دھماکے میں 35 افراد زخمی بھی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں پولیس اہل کار، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہوں فوری طبی امداد کیلئے ڈسٹرکٹ اسپتال بنوں منتقل کیا گیا۔ دور دراز علاقہ ہونے کے باعث امدادی ٹیمیں موقع پر نہ پہنچ سکیں، جس کے باعث لوگوں نے ابتدائی طور پر زخمیوں کو پرائیوٹ گاڑیوں میں اسپتال منتقل کیا۔  دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بنوں کے مطابق دھماکا حوید بازار میں ہونے والی کارنر میٹنگ کے اختتام پر ہوا۔ کریم خان کے مطابق جلسہ گاہ کے اطراف 40 سے زائد پولیس اہل کار تعینات، جب کہ واک تھرو گیٹ بھی لگائے گئے تھے۔ حملے سے متعلق آر پی او کا کہنا تھا کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، دھماکے کا مقام جلسہ گاہ سے لگ بھگ 50 میٹر کی دوری پر ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی اکرم درانی پر قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے، جس میں دو افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اکرم درانی حلقہ این اے 35 سے وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔  خیال رہے ہارون بلور کو منگل کی شب یکہ توت کے علاقے میں کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملے میں شہید کر دیا گیا تھا۔ واقعے میں ہارون بلور سمیت 22 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ 7 جولائی کو کے پی کے ضلع بنوں کے علاقے تختی خیل میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے انتخابی امیدوارکے قافلے پر بم دھماکے سے امیدوار سمیت 7 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل 3 جولائی کو شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں بھی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 میں پی ٹی آئی کے امیدوار کی انتخابی مہم کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یکم جولائی کو اپنے ایک خط میں عام انتخابات اور اُمیدواروں کی سیکیورٹی پر تحفظات کا اظہار کردیا تھا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ نگراں صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پولیس شفاف اور پرامن انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس خط کی کاپی دیگر 3 صوبوں کے وزراء اعلیٰ اورچیف سیکریٹریز کو بھی ارسال کی گئی تھیں۔

PTI

JUIF

FAZL UR REHMAN

Akram Durrani

Election 2018

Tabool ads will show in this div