نگران وزير خزانہ نے خطرے کی گھنٹی بجادی

قرضے اگلي حکومت کيلئے سب سے بڑا مسئلہ ہوگا، نگران وزير خزانہ شمشاد اختر نے خطرے کي گھنٹي بجادي ۔

معیشت کا بھٹہ بیٹھنے لگا خود نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر کے مطابق مئی تک اندرونی قرضےایک سو پینسٹھ کھرب روپے اور بیرونی قرضوں اور واجابت کا حجم 92 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ۔

تیس جون تک پاکستان کے قرضے جی ڈی پی کی قانونی حد 60فیصد کے بجائے 72 فیصد تک پہنچ گئے، جو رواں مالی سال کے آخر تک 74 فیصد ہو جائیں گے۔

شمشاد اختر نے آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹانے کا اشارہ دے کر خطرے کی گھنٹی بھی بجادی، وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ قرضے تو لینا تو پڑیں گے۔ قرضوں میں اضافہ بتدریج ہوا ہے، اس وقت ہماری جی ڈی پی گروتھ ا ریٹ ہائی ہے اور ہماری انویسٹمنٹ ریٹ ہائی ہے۔ اگر ہمیں قرضوں کی حکمت عملی اختیار کرنی ہے توپورے میکرو فریم ورکو دیکھناہوگا۔

ماہرین کہتے ہیں مشکل صورتحال سے نمٹنا ہے تو کشکول اٹھانے کے بجائے سخت اقدامات کے کڑوے گھونٹ پینا ہونگے ۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر پرویز طاہر کا کہنا ہے کہ بہتر ہے کہ ہم خود پروگرام بنا کر اس پر عمل کرنا چاہیں ۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہی نہیں گروتھ کو پروموٹ کرنا۔ اس نے قرضہ کم کرنا ہے اور اپنے قرضے وصول کرنے ہیں، اخراجات کم کرنے پڑتے ہیں جس سے عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق اگلی حکومت کيلئے سب سے بڑا مسئلہ قرض کي ادائيگي ہوگا، صورتحال سنبھالنے کيلئے ذمہ دار قيادت کي ضرورت ہوگی ۔

 

finance minister

Tabool ads will show in this div