آصف غفور کی پریس کانفرنس میں مذکور جنرل فیض کون ہیں؟

پاک فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں دل کی بھڑاس کافی حد تک نکالی۔ تقریبا ہر پہلو پر انہوں نے کافی وضاحت کے ساتھ بات کی۔ ملتان میں ن لیگی رہنما کے گودام پر ’ محکمہ زراعت‘ کے چھاپے پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ اس چھاپے میں آئی ایس آئی کا کوئی اہلکار ملوث نہیں تھا۔

یہ پریس کانفرنس کافی وجوہات کی بنا پر اہم سمجھی جاتی ہے جن میں سب سے بڑی وجہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کل کا اعلامیہ ہے جس میں انہوں نے خود ہی لکھا ہے کہ وہ ایک ’اہم پریس کانفرنس‘ کریں گے۔

میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں جنرل فیض کا خصوصی ذکر کیا اور ملک و قوم کے لیے ان کی خدمات پر روشنی ڈالی اور یہ بھی بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جنرل فیض کا کتنا اہم کردار رہا ہے۔

در اصل جنرل فیض پاک فوج کے وہ آفیسر ہیں جو فیض آباد میں تحریک لبیک کا دھرنا ختم کرانے کے باعث خبروں میں رہے۔

گزشتہ برس اکتوبر کے اوائل میں پاس ہونے والے الیکشن ایکٹ 2017 میں شامل چند ترامیم پر تنازع کھڑا ہوا جس کے بعد تحریک لبیک نے اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیدیا اور وفاقی دارالحکومت مفلوج ہوگیا۔

بار بار مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت نے دھرنا ختم کرانے کے لیے پولیس آپریشن کا فیصلہ کیا لیکن اس میں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

اس کے بعد 27 نومبر کو تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’ پاک فوج کے تعاون‘ سے حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوگیا ہے اور انہوں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ دھرنا ختم کرانے کے لیے آرمی چیف نے ذاتی دلچسپی لی اور کہا کہ مطالبات پورے کرانے کے لیے ہم ضامن بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے میجر جنرل فیض حمید ان کے پاس آئے۔

جب معاہدے کی کاپی سامنے آگئی تو اس میں پاک فوج کی کاوشوں کو سراہا گیا تھا اور اس معاہدے پر جنرل فیص حمید کے دستخط تھے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی سوالات اٹھائے۔

اسلام آبائی ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دھرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ اس معاہدے کی ایک بھی شق قانون کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے معاہدے میں فوج کے شامل ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے تنقید کی تھی اور آخر میں کہا تھا کہ اس تنقید کے بعد یا تو وہ مار دیے جائیں گے یا غائب کردیے جائیں گے۔

واضح رہے  کہ جنرل فیض اس وقت آئی ایس آئی کے کاونٹر انٹیلی جنس ونگ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

pak army

Faizabad

Khadim Rizvi

Tabool ads will show in this div