ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر مظاہرہ، ن لیگی رہنما گرفتار

لندن ميں نواز شريف کي رہائش گاہ کے باہر تحريک انصاف کے کارکنان کي جانب سے ايک بار پھر سے احتجاج کيا گيا۔ اس موقع پر ليگي کارکنان بھي پہنچ گئے۔ نواز شريف کي آمد پر دونوں جماعتوں کے کارکنان کي جانب سے نعرے بازي ہوئي۔ متوالوں نے دھکے ديئے تو پوليس نے مظاہرین کو گرفتار بھي کرليا۔

اتوار کو ہونے والے ایون فیلڈ فلیٹس کے باہر ن لیگی مخالفین کے مظاہرے کے بعد پیر کے روز ایک بار پھر ن لیگی حمایتی اور مخالف آمنے سامنے آگئے۔ دونوں جانب سے ہوتے شدید مظاہرے اور نعرے بازی پر لندن پولیس روکتی رہ گئی۔

 

مظاہرے میں شدت آنے کے بعد لندن پولیس نے مسلم لیگ ن برطانیہ کے رہنما ناصر بٹ کو حراست میں لے لیا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے نا اہل وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نعرے لگائے گئے اور برطانوی حکومت کی جانب سے انہیں پاکستان بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا۔

نواز شریف کے خلاف احتجاج کرتی خاتون نے لوٹا ہوا پیسہ واپس لے کر جانے کی ٹھان لی اور پولیس کی ایک نہ سنی۔ احتجاج بڑھا تو کارکنان کے جذبات بھي بڑھے تو ن لیگ کے کارکنوں نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو دھکے دے کر بھگایا۔

دوسری جانب پي ٹي آئي کارکنان نے الزام لگایا کہ ن لیگ کے مقامی عہدے دار ناصر بٹ نے انھیں تھپڑ مارے اور موبائل فون چھین لیے ہیں۔

 

واضح رہے کہ اس سے قبل اتوار کے روز بھی چند نامعلوم افراد کی جانب سے ایون فیلڈ کی عمارت کے باہر مظاہرہ اور حسین نواز کے فلیٹ کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پولیس کے بروقت پہنچنے پر مظاہرین منتشر ہوگئے تھے، تاہم موقع پر موجود چند افراد کی گاڑیوں کی تلاشی لی گئی تھی۔

 

ن لیگی عہدے داروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرہ کرنے والوں کے پاس چاقو ہیں، جب کہ احتجاج کرنے والوں نے لندن میں ن لیگی رہنما پر ٹرالی سے بھی حملہ کیا تھا۔ واقعہ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بڑی تعداد میں ملکی سیاست داتوں کی جانب سے حملے کی مذمت کی گئی تھی۔

 

واضح رہے کہ 6 جولائی کو احتساب عدالت اسلام آباد کی جانب سے نا اہل وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال قیدبا مشقت، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال قید با مشقت اور 20 لاکھ پاؤنڈ کی سزا سنا دی، جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ریم نواز کو کیلیبری فونٹ کے معاملے میں غلط بیانی پر شیڈول 2 کے تحت ایک برس قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے عدالت کے باہر فیصلہ سناتے ہوا بتایا کہ ’کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ایک سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق کیپٹن صفدر نے بطور گواہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کئے، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے جرم میں معاونت کی۔

نواز شریف کو 80 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ ملزمان دس سال تک کسی بینک سے قرضہ نہیں لے سکتے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے اثاثے چھپانے میں مریم نواز کا اہم کردار تھا، جب کہ مریم نواز کی پیش کی گئی ٹرسٹ ڈیڈ بوگس نکلیں۔ مجرمان پر10 سال کیلئے عوامی یا سرکاری عہدہ رکھنے پر پابندی ہوگی۔

احتساب عدالت کے فیصلے میں حسن اور حسین نواز کو اشہتاری قرار دیا گیا ہے، حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ کہ ایون فیلڈ اپارٹنمٹس کو ضبط کر لیا جائے۔

PTI

london protest

LONDON POLICE

avenfield flats

Tabool ads will show in this div