قومی کھیل کا بدترین زوال

تحرير:سجاد خان

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

کامیابیوں کے دور میں پاکستان نے جو ٹائٹل عالمی ہاکی میں متعارف کرایا تھا وہ ختم کر دیا گیا اور ستم بالائے ستم یہ پہلی دو چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کرنے والی پاکستان کی ٹیم آخری چیمپئنز ٹرافی میں آخری نمبر پر آئی۔ یعنی ہالينڈ ميں ہونے والي آخري چيمپئينز ٹرافي ميں پاکستان سميت چھ ٹيموں نے حصہ ليا اور پاکستان چھٹے نمبر پر آيا۔ پاکستان ہاکي مسلسل زوال کا شکار ہے لیکن انٹرنیشنل ایونٹ میں اس قدر شرمناک پرفارمنس پر تو حکومت پاکستان کو ہاکي فيڈريشن کے عہداران کا بھي احتساب کرنا چاہيئے۔ ایک ماہ پہلے ہالينڈ ميں ڈيرے ڈالنے والی ٹیم کی افسوسناک پرفارمنس دہرا لمحہ فکریہ ۔۔ قومی ٹیم کو ايک ماہ پہلے ہالينڈ راونہ کرنے کی وجہ پاکستان ہاکي فيڈريشن نے ٹيم کي تياري بتائي اور يہ تھي وہ تياري کہ ايونٹ ميں چھ ٹيموں نے حصہ ليا اور پاکستان چھٹي پوزيشن پر آيا۔ ہاکي فيڈريشن نے جو پاکستان کے پيسے پر ہالينڈ ميں عیاشي کي ہے اس کا جواب کون دے گا۔ ٹيم کو غیرملکي کوچ رولينٹ اولٹمينز بھي ديا گيا اس کے باوجود بھي پاکستان کي ٹيم نے انتہائی ناقص پرفارمنس پیش کرکے پاکستان ہاکي فيڈريشن کي قلعي کھول دي کہ فيڈريشن کے عہيداران ہاکي سے کتنے سنجيدہ ہيں۔

سینتیس واں چیمپیئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ 23 جون سے ہالینڈ کے شہر بریڈا میں شروع ہوا۔ چیمپئنز ٹرافی کے نام پر ہونے والےآخری ٹورنامنٹ میں چھ ٹیمیں شریک ہوئيں جن میں عالمی چیمپئن آسٹریلیا، اولمپک چیمپئن ارجنٹینا اور میزبان ہالینڈ کے علاوہ بیلجیئم، بھارت اور پاکستان شامل تھے۔ بیلجیئم، بھارت اور پاکستان کو انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی دعوت پر ٹورنامنٹ میں شامل کیا گیا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق صدر ائیر مارشل (ریٹائرڈ) نور خان نے چیمپئنز ٹرافی کا خیال پیش کیا تھا اور انھوں نے ہی اس ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر ٹرافی تیار کرائی تھی۔ پہلی چیمپیئنز ٹرافی سنہ 1978 میں لاہور میں منعقد ہوئی تھی جس میں پانچ ٹیمیں شریک ہوئی تھیں۔ پاکستان نے اصلاح الدین کی قیادت میں یہ ٹورنامنٹ جیتا تھا۔ پاکستان سنہ 1978، 1980 اور 1994 میں تین مرتبہ چیمپئنز ٹرافی جیت چکا ہے۔

آخری بار پاکستان نے شہباز احمد کی قیادت میں کامیابی حاصل کی تھی اور آج جب شہباز احمد پاکستان ہاکي فيڈريشن کے سيکریٹري ہيں تو ٹيم چھٹے نمبر پر آئي۔ اس پوزيشن پر پاکستان کے آنے کے بعد پي ايچ ايف کے سيکرٹري شہاز احمد سے بات کرنا ضروي ہوگيا تھا سو ميں نے شہباز کو فون کيا اور شکست پر بات کي شہباز احمد نے بھي کھلے دل کا مظاہرہ کيا اور کہہ ديا کہ ہم چيمپئينز ٹرافي جيتنے نہيں گئے تھے۔ ورلڈ رينکنگ ميں تيرہويں نمبر کي ٹيم سے دنيا کي پانچ بہترين ٹيموں ميں سے پہلے نمبر پر آنے کي اميد نہيں کرنا چاہيئے۔ حکومت کي جانب سے گرانٹ روکنے پر شہباز احمد نے کہا کہ ايشين ہاکي اور ورلڈ کپ ايف آئي ايچ کا ايونٹ ہے اس سے ہم منہ تو نہيں موڑ سکتے ہاں ايونٹ کي تياريوں ميں فرق ضرور پڑے گا۔

چیمپینز ٹرافی میں قومی ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر نگران حکومت نے ہاکی ٹیم کی خراب کارکردگی کا نوٹس ليا اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کی 20کروڑ کی اسپیشل گرانٹ روک لی۔ اس اسپیشل گرانٹ جاری کرنے کی منظوری سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دی تھی۔ دس لاکھ سے زائد ماہانہ تنخواہ لینے والے ڈچ کوچ بھی کچھ نہ کر سکے۔ سن 2014 میں پاکستان نے چیمپپنز ٹرافی میں سلور میڈل جیتا تھا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن قومی خزانہ لٹانے میں مصروف ہيں۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ہاکی فیڈریشن کی ناقص کارکردگی پر جواب طلبی کرنیکا فیصلہ کيا ہے۔ اب کيا صرف جواب طلبي ہي ہوگي يا کسي کے خلاف ايکشن بھي ليا جائے گا۔ پاکستان ہاکي فيڈريشن کے کسي عہيدار کو بھي فارغ کيا جائے گا  يا يہ سب وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائے گا۔ سابق کپتان اولمپیئن سمیع اللہ نے کہا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کا چھٹی اور آخری پوزیشن پر آنا پوری قوم کو افسردہ کر گیا، ورلڈ رينکنگ ميں تيرہويں نمبر کي ٹيم سے يہي اميد تھي۔ کوچ رولينٹ اولٹمينز کي خواہش پر ايک ماہ پہلے ہالينڈ ميں ڈيرے ڈالنے سے  پی ایچ ایف حکام نے سیر سپاٹوں پر قوم کے کروڑوں روپے ضائع کئے۔ سميع اللہ نے نگراں حکومت کي جانب سے ہاکي کي گرانٹ روکنے کے فيصلہ کو سراہا۔ سميع اللہ نے کہا جب تک پي ايچ ايف ملک ميں ہاکي کي بہتري کے لئے کوئي حکمت عملي نہ بنالے اورايونٹ ميں شرکت کے پلان ترتيب نہ دے تب تک حکومت کو ہاکي فيڈريشن کو گرانٹ نہيں ديني چاہيئے۔

Holand

Tabool ads will show in this div