کالمز / بلاگ

نوازشریف کاسیاسی مستقبل

وزیراعظم سے نااہلی تک کی کہانی اور ملزم سے مجرم تک کا سفر میاں نواز شریف طے کر چکے ہیں۔ تاحیات نااہلی اور پارٹی صدارت سے نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) نے میاں نواز شریف کو پارٹی کا تاحیات قائد تو مقرر کر دیا مگر ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سزا کے بعد ان کا کا سیاسی مستقبل اندھیروں میں ڈوب چکا ہے۔

نواز شریف کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ اپنی بیٹی مریم نواز کو سامنے لاتے مگر انہیں بھی سزا سنا دی گئی ہے جس کے بعد پارٹی کی ساری ذمہ داری میاں شہباز شریف کے کاندھوں پر آچکی ہے۔ نواز شریف کی پارٹی صدارت سے نااہلی کے بعد میاں شہباز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا صدر بنا دیا گیا تھا مگر وہ ایک نمائشی صدر ہیں کیونکہ اب بھی مسلم لیگ (ن) میں تمام فیصلوں کا اختیار نواز شریف کو حاصل ہے۔ شہباز شریف کی سیاسی حیثیت بلاول بھٹو زرداری کی طرح ہے کیونکہ بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کے چیئرمین تو ہیں مگر فیصلے آصف زرداری کرتے ہیں، اسی طرح میاں شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کے صدر تو ہیں مگر فیصلے میاں نواز شریف کرتے ہیں۔

میاں نواز شریف کا سیاسی مستقبل زیادہ روشن نہیں لیکن اگر وہ اپنی پارٹی کو تقسیم ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو انہیں فوری وطن واپسی کا فیصلہ کرنا ہوگا پھر چاہے گرفتار ہی کیوں نا ہونا پڑے۔ میرے خیال میں ان کی گرفتاری مسلم لیگ (ن) کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرے گی لیکن اگر وہ واپس نا آئے تو ان کی پارٹی جو پہلے ہی تقسیم ہے مزید تقسیم ہو جائے گی۔ نواز شریف کو سب سے خطرناک سیاسی جھٹکا سابق وزیر داخلہ چوہدی نثار علی خان نے دیا جب انہوں نے اپنی جماعت کا ساتھ دینے سے انکار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لینے کا اعلان کیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے چوہدری نثار علی خان کو جیپ کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ 30 جون کو الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی امیدواروں کی نامزدگی کی آخری تاریخ آئی تو جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے نواز لیگ کے کم از کم چھ مزید امیدواروں نے بھی پارٹی کی جانب سے دی گئی ٹکٹیں واپس کر دیں اور آزادانہ طور پر انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما زعیم قادری بھی لاہور کے حلقہ این اے 125 سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور انہیں بھی جیپ کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ الیکشن والے دن اگر یہ جیپ شیر سے ٹکرا گئی تو شیر دھاڑ چیخ میں بدل جائے گی اور نواز لیگ کو بہت سیاسی نقصان ہوگا۔

میں سمجھتا ہوں میاں نواز شریف کو عمران خان نے نہیں بلکہ ان کے اپنوں نے سیاسی نقصان پہنچایا ہے جن میں صرف چوہدری نثار علی خان کا ہی نہیں بلکہ مریم نواز اور میاں شہباز شریف کا نام بھی آتا ہے۔ مریم نواز نے غلط مشوروں اور غلط فیصلوں کی وجہ سے نا صرف اپنے سیاسی کیریئر کو تباہ و برباد کیا بلکہ انہوں نے اپنے والد کے سیاسی کیریئر کا بھی خاتمہ کر دیا۔ سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمات بنوانا اور انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا سابق وزیراعظم نواز شریف کا وطیرہ رہا ہے۔ نواز شریف 1990 سے لے کر آج تک جو کچھ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کرتے آئے ہیں وہی سب کچھ آج ان کے ساتھ ہو رہا ہے، اسے مکافات عمل کہتے ہیں۔

میاں نواز شریف کا سیاسی مستقبل جو بھی ہو لیکن ان کا ماضی اور حال دیگر سیاسی رہنماؤں کے لیے ایک سبق ضرورہے۔

PML N

Tabool ads will show in this div