'ہوٹل منیجرنے مسافروں سے نقدی، سونا ہتھیانے کیلئے دھماکا کروا دیا'

اس دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق ہوئے تھے

پشاور کے آفندی ہوٹل میں 11 مئی کو’گیس لیکج دھماکہ‘ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین نے ہوٹل مالک اورمنیجر پر اپنے خاندان کے سات افراد کے قتل کا الزام عائد کرکے مقدمہ درج کروا دیا ہے۔

جاں بحق افراد کے رشتہ دار ہمایوں نامی شخص نے پہلے پولیس اوربعد میں عدالت میں بیان دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ہوٹل میں ٹھہرے مسافروں کے پاس موجود 10 لاکھ روپے نقدی اور20تولہ سوناہڑپ کرنے کے لیے ہوٹل منیجر نے منصوبہ بندی کے تحت دھماکا کروایا جس کے بعد ہشتنگری پولیس نے ہوٹل مالک اورمنیجر کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس کے مطابق 11مئی کو تھانہ ہشتنگر ی کی حدود بلال ٹاون میں واقع آفندی ہوٹل کی چوتھی منزل میں کمرہ نمبر 408 میں ٹل ہنگو سے علاج کیلئے آنیوالے مہران ، کامران اورعامر پسران گل بت خان، مسماة نجمینہ زوجہ گل بت خان، مسماة نرگس زوجہ کامران، مسماة آسائش دخترہمایون ، رحمل دختر کامران رہائش پذیر تھے۔

 رات دوبجکر 45منٹ پر ان کے کمرہ میں زور داردھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں مہران، نجمینہ، نرگس ، رحمل اورآسائش موقع پر جاں بحق جبکہ کامران اورعامر بعدازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

 پولیس کے مطابق واقعہ کی ہر پہلو سے انکوائری کی جارہی تھی۔ اس دوران ہمایون ولد گل بت خان سکنہ ہنگو نے پولیس کو بیان دیا اوربعد ازاں عدالت کے سامنے بھی ہوٹل مالک ناصر الملک ولد عطاء اللہ سکنہ جٹان پشاور اورہوٹل منیجر شہزاد احمد ولد شمس القمر سکنہ اکوڑہ خٹک کیخلاف اپنے خاندان کے 7افراد کے قتل کی دعویدار ی کردی۔

ہمایوں نے انکشاف کیا کہ ہوٹل میں ٹھہرے خاندان کے افراد کے پاس دس لاکھ روپے نقدی اور20تولہ سونا موجودتھا جو وقوعہ کی شب جاں بحق افراد کے کمرے سے غائب ہوگیا تھا جس میں ہوٹل منیجر اوردیگر افراد ملوث ہیں۔

پولیس نے ہمایوں کا بیان اورانکوائری رپورٹ دفعات کے اندراج کیلئے ضلعی پولیس پراسیکیوٹر کو بھیج دی ہیں۔ رپورٹ پر مذکورہ ملزموں کیخلاف قتل اور جاں بحق افراد سے لاکھوں روپے اور سونا چوری کرنے کے مقدمات درج کرلئے گئے ۔

KPK

dead

Tabool ads will show in this div