نواز شریف کی نیب عدالت سے ایون فیلڈ کیس کا فیصلہ چند دن روکنے کی اپیل

نواز شریف نے ایون فیلڈ کیس کا فیصلہ چند دن مزید محفوظ رکھنے کی اپیل کردی، سابق وزیراعظم کہتے ہیں کہ پاکستان جانے سے پہلے بیگم کلثوم نواز کو ہوش میں دیکھنا چاہتا ہوں، ایک سیاستدان کے کیس کا فیصلہ 3 ماہ تک محفوظ رکھا گیا، اس کیس کا فیصلہ چند دن محفوظ رکھنے سے فرق نہیں پڑے گا، 100 پیشیاں بھگتیں اسی عدالت کے جج کے منہ سے فیصلہ سننا چاہتا ہوں۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز 21 دن سے وینٹی لیٹر پر ہیں، پاکستان جانے سے پہلے انہیں ہوش میں دیکھنا چاہتا ہوں، چند دن کیلئے آیا تھا، پتہ نہیں تھا اتنا وقت لگ جائے گا، احتساب عدالت چند دن کیلئے کیس کا فیصلہ محفوظ رکھے، راولپنڈی کے ایک سیاستدان کا فیصلہ بھی 3 ماہ تک محفوظ رکھا گیا تھا جبکہ اورنج ٹرین کا فیصلہ 8 ماہ تک محفوظ رکھا گیا، ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ چند دن محفوظ رکھنے سے فرق نہیں پڑے گا۔

تفصیلات جانیے : نوازشریف اورمریم نواز جمعےکواحتساب عدالت کافیصلہ سننےپاکستان نہیں آئیں گے

وہ مزید کہتے ہیں کہ ہر طرح کے فیصلوں اور یکطرفہ کارروائیوں کا سامنا کیا، پاکستانی ہی نہیں ساری دنیا میرے خلاف انتقامی کارروائیوں سے واقف ہے، اس کے باوجود کسی بھی موقع پر قانونی طریقہ کار سے انحراف نہیں کیا، جس عدالت میں اپنی بیٹی کے ساتھ 100 سے زائد پیشیاں بھگتی، وہیں جج کے منہ سے فیصلہ بھی سننا چاہتا ہوں، میرے خلاف مزید 2 ریفرنسز کی سماعت بھی جاری ہے۔

مزید پڑھیں : ايون فيلڈ کا فيصلہ آجائے پھر نوازشريف سے اختلافات کھل کر بتاؤں گا،چوہدری نثار

مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد کا مزید کہنا تھا کہ عوام 25 جولائی کو سب سے بڑا فیصلہ سنانے جارہے ہیں، انشاء اللہ عوام کا فیصلہ قوم کی تقدیر بدلے گا، کامیابی عوام کا مقدر بنے گی، جیپ والوں سمیت عوام کی حکمرانی کا راستہ روکنے والے عبرت کا نمونہ بنیں گے، چند لوگوں کی وجہ سے قومی ادارے بدنام ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندہ ہوں قوم کو مایوس نہیں کروں گا، پاکستان میں اس وقت بدترین حالات ہیں، اصول کی جنگ لڑنا قوم کے مفاد میں ہے، ہمارا بہت بڑا مشن ہے، ہر قربانی کیلئے تیار ہوں۔

نواز شریف بولے کہ اہلیہ کے ٹھیک ہوتے ہی فوری واپس جاؤں گا، جو بھی فیصلہ آیا، ملک واپس ضرور جاؤں گا، سابق وزرائے اعظم نے صرف 3، 3 پیشیاں بھگتی ہیں، کیوں پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں؟، کون ہیں جو سنسر شپ لگا رہے ہیں، آرٹیکلز لکھنے والے اب ٹوئٹ لکھ رہے ہیں۔

maryam

Avenfield Case

AVENFIELD

Tabool ads will show in this div