اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش،آئی ایس آئی نے مہلت مانگ لی

سپریم کورٹ میں اسلام آباد کی سڑکوں کی بندش سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں آئی ایس آئی نے جواب داخل کراتے ہوئے سڑک کھولنے کے لیے مہلت مانگ لی ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز میں سڑک کیسے شامل ہوگئی۔ آئی ایس آئی حکام کو بلوائیں، جو آکر آگاہ کریں، پورے ملک میں بند سڑکیں کھلوا رہے ہیں تو کیا اب ہم آئی ایس آئی کی سڑک بھی نہیں کھلوا سکتے، عدالت کو آگاہ کریں کتنے دن میں سڑک کھولی جائے گی۔

سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عوام کو متبادل سڑک بنا کردی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی کا موقف جانے بغیر حکم جاری کردیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ متبادل سڑک سے فرق نہیں پڑتا۔عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعے تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت نے ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری دفاع کو بدھ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ کیس کی سماعت اوپن کورٹ میں ہی ہوگی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے شہر کی مختلف سڑکوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی تھی، جس میں استفسار کیا تھا کہ آبپارہ روڈ اب تک کیوں نہیں کھلا؟۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ سماعت پر حکام کو یہ سڑک ایک ہفتے میں کھولنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ سکیورٹی اداروں قانون پر عمل نہیں کرتے۔

خیال رہے کہ آبپارہ کے قریب خیابانِ سہروردی روڈ پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی' کا صدر دفتر واقع ہے۔ اس روڈ کو آبپارہ روڈ بھی کہا جاتا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں اس شاہراہ کے دو کلومیٹر طویل حصے کو سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بند کردیا گیا تھا اور اس حصے سے ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزارا جاتا ہے۔

اسلام اباد میں ماضی میں دہشت گردی کے خدشے کے پیشِ نظر بہت سے اہم مقامات اور سڑکیں سیمنٹ کے بلاک رکھ کر مستقل یا جزوی طور پر بند کردیے گئے تھے۔ لیکن دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آنے کے باوجود بہت سی اہم شاہراہیں آج تک بند ہیں۔

 

DG ISI

Tabool ads will show in this div