انتخابات میں شفافیت اور بلوچستان

****تجزیہ : جلال نور زئی ****

پچھلے کالم میں صوبے کی مختصر سیاسی و انتخابی احوال بیان کر چکے ہیں ۔انتخابی مہم میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آ رہی ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار باہم رابطوں میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے غیر جانبداری پر بھی اُنگلیاں اُٹھائی جا رہی ہیں ۔ صوبے میں کمشنر وں اور ڈپٹی کمشنروں کی تمام ڈویژنز اور اضلاع میں تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ اکثر اضلاع میں جونیئر کو سینئرافسران پر فو قیت دے کر تعینات کیا گیا ہے ۔ پچھلی حکومت میں اوایس ڈی بنائے گئے کئی سینئر افسران اب بھی پرانی پوزیشن پر ہی رکھے گئے ہیں ۔ انیس گریڈ کے جونیئر آفیسرز کمشنر لگا ئے گئے ہیں جنہوں نے اب تک سینئر مینجمنٹ کورس تک نہیں کیا۔ ڈپٹی کمشنرز کی پوسٹ گریڈ انیس کی ہے جس پر اسکیل اٹھارہ کے آفیسران کو بیٹھا دیا گیا ہے ۔پسند و نا پسند کا معاملہ پچھلی حکومتوں میں بھی چلتا رہا اور نگران سیٹ میں بھی اسی روایت کو برقرار رکھا گیا ہے۔

گویا صاف صاف سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں کو ٹھوکریں ماری جا رہی ہیں۔افسران میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔ ان تعیناتیوں میں بلوچستان عوامی پارٹی کے اُمیدواروں کی منشاء و خواہش ملحوظِ خاطر رکھی گئی ہے ۔ طرف داری ہوگی تو الیکشن کی شفافیت پر سوالات ضرور اُٹھیں گے ۔ اور اس قیاس کو تقویت ملے گی کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) منظورِ نظر ٹھہری ہے ۔جس کے راستے کی رکاوٹیں ہٹانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ ویسے ناقد جماعتیں بھی مر عوبیت کا شکار ہوئی ہیں ۔جنہوں نے مدافعت کی بجائے ’’ باپ ‘‘ سے اُمیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ ان سے سیاسی جماعتوں نے روابط کر لئے ہیں ۔عید الفطر سے قبل بھی ملاقاتیں ہوئیں چنانچہ عید الفطر کے بعد بھی سیاسی لیڈران ’’باپ ‘‘کے در پر قدم ر نجہ ہوئے ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کی باپ کے بہ زعم خویش بانی ،سعید احمد ہاشمی سے ملاقات ہوئی ۔ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ دوبار رابطہ کر چکے ہیں ۔جمعیت علمائے اسلام ف کے مولانا عبدالواسع وغیرہ تو ملاقات کر ہی چکے تھے چناں چہ مولانا عبدالغفور حیدری جو پی بی 32پر ایم ایم ا ے کے اُمیدوار ہیں نے بھی تعاون کے لئے رجوع کر لیا ہے ۔

مولانا عبدالواسع نے تو انتہا کر دی تھی کہ اپنے بھائی ’’ محب اللہ ‘‘کو باپ میں شامل کرانے کی ٹھان لی تھی ۔ بھائی کیلئے پی بی 3قلعہ سیف اللہ کے ٹکٹ کا تقاضا بھی کیا تھا۔اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ کتنے نظریاتی اور پارٹی مفادات کو مقدم سمجھتے ہیں!۔یقیناًاس سیاست کو موقع پرستی کا نام ہی دیا جا سکتا ہے ۔ یہ یاد رہنا چاہئے کہ ان کی یہ حیثیت اور شناخت پارٹی اور مخلص کارکنوں کی مر ہون منت ہے ۔ ماضی میں اس جمعیت کے کئی لوگ خود فریبی میں مبتلا ہو کر گمنامی میں جا چکے ہیں ۔1988کے انتخابات میں عنایت اللہ بازئی جے یوآئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے، پھر بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بنے ،پھر پارٹی چھوڑ کرمسلم لیگ میں شامل ہوئے ۔ یوں ان کی سیاست اور شخصیت ختم ہو گئی ہے ۔2002ء کے انتخابات میں جمال شاہ کاکڑ جے یو آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ۔ بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر بنے ۔ سمجھ بیٹھے کے یہ سب اُن کی ذات کا کمال ہے ۔یعنی جے یو آئی چھوڑ کر مسلم لیگ نواز میں شامل ہوگئے ۔پھراسمبلی پہنچنے کی ان کی تمنا پوری نہ ہوسکی۔ اسی اسمبلی میں جے یو آئی کے شہزادہ فیصل احمد زئی جو وزیر بھی تھے نے بھی جماعتی فیصلوں کے خلاف وقتی مفاد کو ترجیح دی اور اب گو شہ گمنامی کی نظر ہیں۔مولانا عبدالواسع کو اگر شوق ہے تو ایک بار جے یو آئی چھوڑ کر تو دیکھیں ، لگ پتہ چل جائے گا کہ وہ کتنے پانی میں ہیں! جماعت اسلامی بلوچستان میں بڑی ’’ناشاد‘‘ قسم کی تنظیم ہے ، جے یو آئی اسے ذرہ بھی اہمیت نہیں دے رہی ۔مولوی تیز ہیں ان کی صوبے کی سیاست پر گہری نظر ہے ۔انتخابی داؤ پیچ کے خوب ماہر ہیں۔جماعت اسلامی ان کی چال چل ہی نہیں سکتی۔

جے آئی کوئٹہ میں حلقہ چوبیس ، اکتیس اور اُنتیس پر ٹکٹوں کا مطالبہ کر رہی تھی۔ان میں بھی حلقہ29 جماعت کے لئے اہمیت کا حامل تھا ،جے یو آئی ف اس پر آمادہ نہ ہوئی۔لہٰذا جماعت اسلامی کے ایک رکن ڈاکٹر عطاء الرحمان نے جے یو آئی کے ساتھ مل کرچانکیہ سیاست کی ، پردے کے پیچھے پی بی 28کا ٹکٹ حاصل کر لیا۔مولانا عبدالغفور حیدری سے ٹکٹ وصولی کا لمحہ کیمرے کی آنکھ میں بھی محفوظ کر لیا۔ حالانکہ یہ حلقہ جماعت اسلامی کا مطالبہ اور ترجیح پر تھا ہی نہیں۔گویا جماعت کے اس شخص نے مل کر اپنا کام نکلوا دیا۔اس دوران جماعت اسلامی کے چند دوسرے لوگوں نے بھی خیانت و بد خواہی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔دیکھا جائے تو کو ئٹہ کے نو صوبائی حلقوں میں جماعت اسلامی کو ایک حلقے پر بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا ۔جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے ساتھ مخلوط حکومت میں تھی ۔ سراج الحق نے سینیٹ چیئر مین کے انتخاب میں ساتھ نہ دیا تو فواد چودھری نے انہیں جھو ٹے کے الفاظ سے نوازا۔کسی نے کہا کہ جماعت اسلامی والے منافقت کر رہے ہیں۔ تو کسی نے پانچ سال وزارتوں کے مزے لوٹنے کی باتیں کسیں۔جماعت اسلامی اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بنی تو مہران بینک اسکینڈل کی تہمت گلے پڑ گئی ۔بہر کیف بلوچستان میں امن کا مسئلہ درپیش ہے ان چند دنوں میں مکران ڈویژن کے اندرکئی امیدواروں پر حملے ہو چکے ہیں ، ان کی رہائش گاہیں نشانہ بن چکی ہیں ۔جون میں ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے رہنماء میر اصغر رند کے گھر کو دھماکا خیز مواد سے اڑایا گیا۔ اسی علاقے میں بی این پی مینگل کے پی بی48سے امیدوار میر حمل بلوچ کے قافلے پر حملہ کیا گیا۔بلوچستان عوامی پارٹی کے نائب صدر ظہور بلیدی کے کیچ کے علاقے بلیدہ میں واقع گھر پر بھی دو بار حملہ کیا گیا۔اسی طرح نیشنل پارٹی کے پی بی44آواران کم پنجگور سے امیدوار سابق ضلع ناظم خیر جان بلوچ کے قافلے پر بھی شدت پسند تنظیم کے حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور راکٹ کے گولے داغے۔الیکشن کے دن قلعہ عبداللہ خاص کر گلستان میں بھی غیر یقینی حالات دکھائی دیتے ہیں ۔یہ محمود خان اچکزئی کا آبائی علاقہ ہے ۔محمود خان اچکزئی کی جماعت پشتون تحفظ موومنٹ کو گلے لگا کر سخت گیر نعروں اور مطالبات کا حصہ بن گئی، یہی کچھ افغان حکومت وہاں کی سیاسی جماعتیں اور دوسرے حلقے کہتے ہیں۔پاکستان میں متعین افغان سفیر حضرت عمر ز ا خیلوال بر ملا کہہ چکے ہیں کہ اُن کا ملک پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے ۔ظاہر ہے کہ افغان حکومت حمایت کی آڑ میں شرارت کر رہی ہے ۔ پشتونخوا میپ کو اتنا آگے نہیں جانا چاہئے تھا ۔ یقینایہ فیصلہ ان کی کم فہمی ظاہر کرتا ہے ۔گویا ان کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی، جو ان کی اپنی پیدا کردہ ہوں گی۔ پشتونخوا میپ منظم جماعت تھی۔ اب ان کے اندر کی باتیں رہنماؤں کی زبانی برسر عام ہونے لگی ہیں۔

چند حلقوں پر ان کے لوگ آزاد حیثیت سے میدان میں کودے ہیں۔اختلافات کی وجہ سے پارٹی کا مرکزی کونسل سیشن کئی سال منعقد نہ کیا جا سکا ، اس خوف سے کہ کہیں پینڈورا باکس نہ کھلے ۔کرتے کرتے 26مئی کو کونسل سیشن کا انعقاد کوئٹہ میں ہوا ،جس میں محمود خان اچکزئی پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے ۔چونکہ یہ کونسل سیشن نا گزیر تھا ،انٹرا پارٹی انتخابات نہ ہوتے تو الیکشن میں پشتونخوا میپ کو ان کا انتخابی نشان ’’درخت‘‘ الاٹ نہ ہوتااورامیدواروں کو متفرق نشانات پر الیکشن لڑنا پڑتا۔لہٰذا مرکزی کونسل سیشن میں اکتوبر2018ء تک عارضی قیادت کا انتخاب کیاگیا ۔پیش ازیں ان کا مرکزی کونسل سیشن فروری2013ء کو ہوا تھا۔گویا اس جماعت کا شیرازہ بکھرتا دکھائی دیتاہے۔یہ تھا مختصر احوال جس میں تضادات کی جھلک بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

ECP

Election2018

BAP

party tickets

Tabool ads will show in this div