کراچی این اے 238: زندگی آج بھی دو سو سال پیچھے ہے

Jul 03, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/07/NA-238-Khi-Pkg-03-07.mp4"][/video]

این اے دو سواڑتیس کراچی کا وہ حلقہ ہے جہاں کئی سو سال سے لوگ آباد ہیں لیکن وہاں جاکر دیکھو تو لگتا ہے زندگی آج بھی دو سو سال پیچھے ہے۔

این اے دو سو اڑتیس کراچی کا وہ حلقہ ہے جس میں بیشتر حصہ ساحلی پٹی پر محیط ہے لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تمام قومیت کے لوگ آباد ہیں، ریڑھی گوٹھ کراچی کا قدیم ترین علاقہ ہے لیکن مسائل قیام پاکستان سے قبل والے ہی ہیں نہ ٹرانسپورٹ نہ ہی رہنے کو مکان کہتے ہیں روٹی کپڑا مکان کا نعرہ کھوکلا ہے۔

احمد آباد گوٹھ جہاں بنگالی بولنے والے پاکستانیوں کی آبادی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ پچاس سال گزرنے کے باوجود یہ آج بھی شناخت کے لئے بھٹکتے ہیں اڑسٹھ سالہ علی جوہر ہیں انہی میں سے ایک ہیں بیوی بچوں کا شناختی کارڈ بن گیا یہ خود دادا نانا بن گئے لیکن ان کا شناختی کارڈ نہیں بن رہا، ساحلی پٹی پر واقع قدیم گوٹھ آج بھی ٹرانپسورٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔

این اے دو سو اڑتیس میں دو لاکھ چونتیس ہزار چھہ سو سولہ ووٹرز ہیں جن میں نو ہزار آٹھ سو دو خواتین جبکہ ایک لاکھ اکتالیس ہزار آٹھ سو چودہ مرد ووٹرز ہیں۔

الیکشن آتے ہی کوئی تبدیلی کا نعرہ لگارہا ہے تو کوئی روٹی کپڑا مکان کا تو کوئی خوش حالی اور ترقی کے سنہرے خواب دکھا رہا ہے لیکن ان سب پر عمل ہوگا یا نہیں اس کا تو الیکشن کے بعد ہی پتہ چلے گا۔

ELECTION

VOTER

NA 238

Tabool ads will show in this div