صدرممنون نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں اکتیس جولائی تک توسیع کردی

بيرون ملک جائيداد خريدنے یااثاثے بنانے والوں کو ایک موقع اور مل گیا۔ صدرممنون حسين نے وزيرخزانہ کی سفارش پرايمنسٹی اسکيم کی مدت ميں ایک ماہ کی توسیع کردی۔

صدر مملکت نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مدت میں توسیع کے لیے آرڈیننس پر دستخط کردیےجس کےبعد صارفین ملکی وغیرملکی اثاثے 30 جون کے بجائے اکتيس جولائی تک ذرائع آمدن بتائے بغیر ظاہرکرسکتے ہیں۔اپریل کے فنانس بل میں منظور کی جانے والی ایمنسٹی اسکیم کی مقررہ تاريخ گزشتہ روز (30جون) کو ختم ہوگئی تھی ۔

حکومتی اسکيم سےفائدہ اٹھاتے ہوئےاب تک ہزاروں افراد اثاثے ظاہر کرچکے ہيں ۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق اسکیم پر لوگوں کا ردعمل مثبت رہا ہے۔

ايف بي آر حکام کے مطابق ظاہر کردہ بیرونی اثاثوں پر ٹیکس ادائیگی اور رقوم کی واپسی میں مشکلات بھی پیش آئیں مگر اميد ہے اس اقدام سے پاکستانی معیشیت میں استحکام آئے گا۔اسکیم سے افراد، اثاثوں اور آمدن کا ریکارڈ دستاویزی بنانے میں بھي بھرپور مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت ٹیکس چور، بیرون ملک پیسے رکھنے والے یا اپنے اثاثے چھپانے والوں کو ٹیکس ادا کرنے اور اثاثے ظاہر کرنے کا موقع دیا گیا۔اسکیم کے تحت ایک ماہ میں 45ہزار سے زائد افراد نے 110 ارب روپے سے زائد کے چالان تیارکروائے اور ریونیو کی مد میں اربوں روپے حاصل ہوئے۔

اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کے اثاثوں کی چھان بین کے علاوہ ٹیکس چوروں کے غیر ملکی اکاؤنٹس اورجائیداد سے معلومات بھی حاصل کی جائیں گی۔ دولت چھپانے والوں کو معمول کی شرح سے زیادہ ٹیکس،جرمانے اور قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پس منظر

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ن لیگ کے دورمیں مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل نے متعارف کرائی جس کا بنیادی مقصد تھا کہ لوگ اپنے سرمائے کو ظاہر کریں اور ٹیکس میں خاطرخواہ اضافہ ہو۔ اسکیم کا اطلاق 10 اپریل سے لے کر 30 جون 2018 تک تھا جس میں اب ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔

TAX

tax amnesty scheme

Tabool ads will show in this div