کالمز / بلاگ

عام آدمی کس کو ووٹ دے؟

الیکشن کا میدان سج گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اس میدان میں کھلاڑیوں کے ساتھ اتر چکی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنے منشور کے ساتھ ووٹ کا مطالبہ کر رہی ہے،ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی متعدد موقعے ملے مگر وہ عام آدمی کے لئے کچھ نا کرسکیں، عوام اب ان دونوں جماعتوں کا متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

کچھ لوگ پاکستان تحریک انصاف کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا متبادل قرار دے رہے ہیں مگر میرے نزدیک ایسا نہیں، تحریک انصاف کی بنیاد رکھتے ہوئے عمران خان نے جو وعدے کئے تھے اور جو منشور پیش کیا تھا مگر آج عمران خان اپنے منشور کے کسی ایک نکتے پر بھی قائم نا رہ سکے، عمران خان پی پی پی اور نواز لیگ کے جن رہنماؤں پر کرپشن کے الزامات لگاتے تھے آج وہ سب تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں۔ عمران خان کے قول و فعل میں تضاد دیکھ کر ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ اب ووٹ کس کو دیا جائے۔

ایک عام آدمی بنگلہ یا گاڑی نہیں بلکہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اسے صاف پانی فراہم کی جائے اور اس کی گلیوں میں سیوریج کا گندا پانی جمع نا ہو۔ عام آدمی چاہتا ہے کہ اسے سفارش یا سیاسی جماعت سے وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ میرٹ پر نوکری دی جائے۔ عام آدمی چاہتا ہے کہ اسے صحت و تعلیم کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ یہ سب حکومت کی ذمہ داری ہے مگر ماضی میں حکومتوں نے ان شعبوں میں کام کرنے کے بجائے اپنے بینک اکاؤنٹ بھرنے پر توجہ مرکوز کئے رکھی اس لئے چند حکمران تو خوشحال ہیں مگر عام آدمی بے روزگاری اور تنگدستی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

لوگوں میں کچھ شعور پیدا ہو گیا ہے مگر میں پاکستانی عوام کو جمہوریت پسند عوام نہیں کہوں گا۔ عوام کے ووٹ کی بدولت پانچ سال تک اسمبلی میں بیٹھ کر مراعات حاصل کرنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے سابق اراکین اور رہنما اپنے حلقوں کا دورہ کر رہے ہیں تو انہیں عوام کے غم و غصے اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کو بھی اس وقت اپنے آبائی حلقے میں سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ گیا جب ایک ووٹر نے سوال کیا کہ آپ دس سال حکومت میں رہے مگر یہاں ایک اسکول تک قائم نا کر سکے۔ ووٹر نے کہا یہاں نا اسکول ہے، نا بجلی ہے جس کے خورشید شاہ کوئی جواب نا دے سکے۔ سابق وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کی گاڑی کو بھی لاڑکانہ میں عوام نے گھیر لیا اور نعرے بازی کی مگر نام نہاد جمہوری رہنما نے گاڑی سے اترنے تک کی زحمت نہیں کی۔ عوامی احتجاج کا یہ سلسلہ صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں اسمبلی کا رکن رہنے والے امیدواروں کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ عام آدمی کس کو ووٹ دے؟

1۔ صاف پانی کی فراہمی 2۔ سیورج نظام کی بہتری 3۔ روشن اور مضبوط سڑکیں 4۔ تعلیمی اداروں کا چیک اینڈ بیلنس 5۔ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لئے خصوصی اقدامات 6۔ ملازمت کا عمل مکمل میرٹ پر 7۔ حلقے کے بجٹ کا مکمل رکارڈ اور عوام کی رکارڈ تک رسائی 8۔ معززین، بزرگوں اور نوجوانوں پر مشتمل علاقائی سطح پر کمیٹی 9۔ سرکاری ڈسپنسری کا قیام ہر یونین کونسل میں 10۔ عام عوام کی منتخب امیدوار تک مکمل رسائی

یہ وہ دس اقدامات ہیں جنہیں جو بھی امیدوار پورا کرتا ہے، ووٹ کا اصل حقدار وہی ہے، اس مرتبہ ایک عام آدمی کو ووٹ دے کر کامیاب کریں کیونکہ ایک عام آدمی ہی آپ کے مسائل حل کرسکتا ہے کیونکہ وہ آپ کے مسائل سے واقف ہے۔

 

ELECTION

Politics

VOTER