تحریک انصاف جاتے وقت بلین ٹری منصوبہ بھی ٹھپ کرگئی

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت جاتے وقت بلین ٹری منصوبہ بھی ٹھپ کر گئی اور سیکڑوں ملازمین کو فارغ کردیا۔ چترال میں برطرف ملازمین نے محکمہ جنگلات کے دفتر کے باہر دھرنا دے دیا۔

چترال سے سما کے نمائندہ فیاض احمد کے مطابق چترال میں بلین ٹری پروجیکٹ کے 200 ملازمین کو بغیر نوٹس نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور ان ملازمین کو 9 ماہ سے تنخواہیں بھی نہیں ملیں۔

برطرف ملازمین نے محکمہ جنگلات چترال کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ان کی نوکریاں بحال کی جائیں اور 9 ماہ سے رکی تنخواہیں بھی ادا کی جائیں بصورت دیگر بنی گالا میں عمران خان کے گھر کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے سما سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملازمین کو ہم نے نہیں نگراں حکومت نے نکالا ہے جبکہ ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کو نگراں حکومت کے قیام سے قبل ہی بر طرف کیا گیا تھا۔

شوکت یوسفزئی نے بعد میں کہا کہ نکالے گئے ملازمین ڈیلی ویجز تھے تاہم ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ ڈیلی ویجز نہیں بلکہ کنٹریکٹ پر تھے اور محکمہ جنگلات کے مطابق بھی مذکورہ ملازمین ڈیلی ویجز نہیں ہیں۔ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق پوچھے گئے سوال کا شوکت یوسفزئی واضح جواب نہ دے سکے۔

سما کے نمائندہ فیاض احمد کے مطابق ملازمین اس وقت چترال کے علاقہ بونی میں واقع محکمہ جنگلات کے دفتر کے باہر بھوک ہڑتال کیے بیٹھے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل بھی ملازمین نے احتجاج کیا تھا تاہم ڈٰی سی چترال اور اسسٹنٹ کمشنر نے مظاہرین کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے مطالبات منظور کروائے جائیں گے تاہم مطلوبہ وقت کے اندر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی جس پر ملازمین نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا۔

PTI

KPK

IK

Billion Tree Project

Shoukat Yousafzai

Tabool ads will show in this div