سیاستدان یا پورس کے ہاتھی؟

تقریبا 2500 سال پہلے، سکندر نے ملک گیری کی ہوس میں اس علاقے پرحملہ کیا جو آج پاکستان کہلاتا ہے۔ اس علاقے کے بہادر مہاراجا پورس نے اس کے مقابلے کے لیے ایک زبردست فوج تیّار کی۔ اس فوج کی اہم ترین چیز ہاتھیوں کا دستہ تھی۔ اس دستے میں سو یا زیادہ ہاتھی تھے۔ اس زمانے کی جنگ میں ہاتھی پر بیٹھے ہوئے سورما تک پہنچنا بہت مشکل تھا۔ جبکہ ہاتھی شمشیر زنوں، شہسواروں، تیر اندازوں اور نیزہ بازوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دشمن کی صفوں کو تہس نہس کر دیتے تھے۔ مگر سکندر کی فوج کے مدبّروں نے ہاتھی کو ڈرانے کے لیے آگ کا استعمال کیا۔ جلتے اور بھڑکتے ہوئے تیروں سے ڈر کر ہاتھ پلٹ کر بھاگے تو پیچھے آتے ہوئے اپنے ہی سپاہیوں کو کچل ڈالا۔ اس ترکیب نے پورس کو شکست خوردہ اور سکندر کو فاتح ٹھہرایا۔ دریائے جہلم کے کنارے لڑی جانے والی اس جنگ میں مہاراجا نے بہادری کے جوہر دکھائے اور جب تک زخموں سے چور ہوکر گر نہیں پڑا ہتھیار نہیں ڈالے۔

گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کے رہنما زعیم قادری کا اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چھوٹے کارکن کی حیثیت سے عملی سیاست کا آغاز کیا، میرے خون میں مسلم لیگ تھی ،ہے اور رہے گی۔میرے والد نے ایوب خان اور یحیٰ خان کے دور میں جیلیں کاٹیں۔ زعیم قادری نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کے بوٹ پالش نہیں کر سکتا، نوکری صرف اپنے کارکنوں کی کروں گا۔ انہوں نے حمزہ شہباز کو محاطب کرتے ہوئے کہا کہ "سن لو تم، لاہور تمہارے باپ کی جاگیر نہیں ہے، تمہیں سیاست کر کے دکھاؤں گا"۔ زعیم قادری کا حمزہ شہباز کو کہنا تھا کہ تم اپنے بوٹ پالیشیوں کو لاؤ اور الیکشن لڑو، میرا مقابلہ تمہارے ساتھ ہے، میں پنجاب اور پاکستان کے ورکرز کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔

اس سے قبل چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ جب مسلم لیگ( ن) بنا رہے تھے تو 15 سے 20 لوگ تھے لیکن آج ان لوگوں میں سے ایک بھی پارٹی میں موجود نہیں ہے، ان تمام افراد کو یا تو نواز شریف نے چھوڑ دیا یا انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف بہت زیادہ سینیر یا اہل نہیں تھے کہ پارٹی سربراہ بن سکیں لیکن ان دنوں کسی ایک کو آگے کرنا تھا تو فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو آگے کر دیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ 34 سال سے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا، نواز شریف کا مجھ پر نہیں بلکہ میرا ان پر اور شریف خاندان پر قرض ہے۔چوہدری نثار نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میری نواز شریف سے راہیں جدا ہو جائیں، میں نے ہمیشہ سر اٹھا کر سیاست کی، کوئی کام اصولوں کے خلاف نہیں کیا۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والے شخص کو نظر انداز کر رہے ہیں جو 1985 سے الیکشن جیتتا آ رہا ہے۔

2015ء میں مسلم لیگ (ن ) کے رہنما مشاہد اللہ کے استعفے پر پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے رد عمل دیتے ہوئے مشاہد اللہ کا بیان حکومتی پالیسی کا حصہ قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی ٹیم میں بہت سے "پورس کے ہاتھی " ہیں ، جو وزیراعظم کو ہر بار مشکل میں ڈالتے ہیں۔

آج کی اس عملی سیاست میں جس میں ہم سب اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اس سال 25 جولائی کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں تو ہمیں بحیثیت پاکستانی اپنے ووٹ کے ذریعے کسی ایسے شخص کو اس ملک کی باگ ڈور دینی ہے جو اس ملک کو آگے کی جانب تیزی سے ترقی کی منازل طے کرواسکے ۔ نہ کہ وہ پورس کے ہاتھی اسمبلی میں شامل ہوں جو وقت آنے پر سچای کا ساتھ دینے کے بجائے اپنی ہی صفوں میں موجود لوگوں پر چڑھ دوڑے پھر یہ بات زبان زد عام ہو جائے کہ فلاں پارٹی کا فلاں لیڈر چور اور کرپٹ ہے کیونکہ اب ہم ایک ایسے پاکستان کی تعمیر چاہتے ہیں جو صحیح معنوں میں ہماری قوم کی امنگوں کی ترجمان ہو۔ حکمرانوں سے مرحوم حبیب جالب نے موت سے کچھ عرصہ قبل درخواست کی تھی۔

نا جاں دے دو نہ دل دے دو بس اپنی ایک مل دے دو تمہاری ناخدائی سے کشتی ڈوب جائیگی خدار چھوڑ دو پیچھا کنارہ مستقل دے دو

 

PML N

ch nisar

mushahid ullah

Zaeem Qadri

Nawaz Shariff

Tabool ads will show in this div