انور نامہ کا کردار علی نواز چانڈیو

ملک بھر میں عام انتخابات 2018 کی تیاریاں جاری ہیں۔ امیدواروں کی تفصیلات منظرعام پر آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں عوام کے سامنے الیکشن لڑنے کے خواہش مند غریب متوسط طبقے سے ہمدردی رکھنے  والے بڑے بڑے  رہنماوں کی کروڑوں اور اربوں کی  جائیدادیں سامنے آرہی ہیں۔ ایسے میں عوام سے ہمدردی اور اُن کی تقدیر بدلنے کے لیے ایک مردہ زندہ ہوکر امیدوار کے طور پر سامنے آگیا ہے۔ ٹھٹھہ میں سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 78 سے ایک ایسا امیدوار بھی الیکشن میں حصہ لے رہا ہے جو 8  سال قبل مردہ قرار دیا جاچکاتھا۔ ٹھٹھہ کے حلقہ پی ایس 78  سے الیکشن لڑنے والے امیدوار زاکر حسین کی جانب سے الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔ جس میں دیگر کاغذات کے ساتھ اپنی موت کا ایک جعلی تصدیق نامہ ( جوکہ 8 سال قبل 2010 میں فراڈ سے بچنے کے لیے بنوایا گیا تھا) بھی جمع کرایاگیا۔ آٹھ سال قبل مرجانے والے کا  اچانک الیکشن میں حصہ لینے کے لیے زندہ ہوجانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ کیونکہ یہ وہی سوچ ہے جس کا زکر جناب انور مقصود صاحب نے رواں سال ماہ اپریل میں پیش کیے جانے والے انور نامہ ایک سندھی کا انٹرویو میں کیا تھا۔ انور مقصود صاحب پاکستان کے مشہور افسانہ نگار ، مزاح نگار، اسکرپٹ رائٹر ہیں۔ جنھیں اللہ نے خداداد صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ طنزو مزاح کے زریعے سماجی اور معاشرتی حقیقت کو سامنے لاکر شعور اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انور مقصود صاحب کی جانب سے اپریل 2018 میں پیش کیا گیا انورنامہ ایک سندھی کا انٹرویو میں یہ ہی حقیقت بیان کی گئی تھی کہ کس طرح سے ایک مخصوص سوچ کے حامل افراد قرضہ لیکر ہڑپ کرجاتے ہیں۔جب قرضہ واپس کرنے کا وقت آتا ہے تو اُس قرضدار کو مردہ قرار دلواکر قرضہ معاف کروالیا جاتا ہے۔ اس طرح سے ملک و قوم کا پیسہ ایک مخصوص سوچ رکھنے والا طبقہ لوٹ کھسوٹ کا مال سمجھ کر کھاجاتا ہے۔ جس سے قومی خزانے کو کافی نقصان ہوتا ہے۔ لیکن افسوس چند افراد کی جانب سے  چورکی داڑھی میں تنکا کے طور پر خوب واویلا کیاگیا۔ انور مقصود صاحب کی جانب سے معاشرے کی حقیقت بیان کرنےپر چند متعصب افراد کی جانب سے اُنکی شخصیت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لسانیت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ جس پر انور مقصودصاحب نے اُس قسط کو اپنی سائٹ سے ہٹادیا اور اُس قسط پر  معافی بھی مانگی۔ کیا اسکے بعد حقیقت تبدیل ہوگئی؟؟ نہیں ہوئی، لیکن اب جب انور مقصود صاحب کے انور نامہ ایک سندھی کا انٹرویو میں مرکزی کردارکے طور پر جس علی نواز چانڈیو کے فراڈ کی کہانی کو پیش کیا گیا تھا۔ وہ کردار حقیقت میں سامنے آگیا ہے۔ تو وہ لوگ جنھوں نے انور مقصود صاحب کو  تنقید کا نشانہ بنایا اپنے کیے پر معافی مانگنا پسندکریں گے؟؟  ہمیں انور مقصود صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انھوں نے ملک کو دیمک کی طرح چاٹنے والے کردار کی حقیقت عوام کے سامنے پیش کی۔  انور مقصودصاحب جیسے عظیم فنکاروں ، دانشوروں کی قدر کرنا چاہیےوہ ہمارا اثاثہ ہیں۔ جو اپنی صلاحیتوں سے معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

ANWAR MAQSOOD

Anwar Nama

Tabool ads will show in this div