اسلام آباد، متحدہ قبائل جرگے کا نادرا چوک پر دھرنا

Jun 25, 2018

متحدہ قبائل پارٹی نے فاٹا میں انتخابات کے انعقاد اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد کے نادرا چوک پر دھرنا دیدیا۔ قبل ازیں مظاہرین نیشنل پریس کلب کے باہر دھرنا دیے بیٹھے تھے۔

 اسلام آباد سے سماء کے رپورٹر فیاض محمود کے مطابق مظاہرین نے نیشنل پریس کلب کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے مظاہرین کو نادرا چوک پر روک لیا جس پر مظاہرین ادھر ہی دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

گزشتہ روز متحدہ قبائل پارٹی اور تحریک جوانان پاکستان کے رہنماوں حبیب ملک اور عبداللہ گل و دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ فاٹا کا انضمام ہونے کے باوجود صوبائی نشستوں پر انتخابات کیوں نہیں کرائے جارہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا میں صوبائی نشستوں پر موجودہ صوبائی حکومت کی زیرنگرانی انتخابات کرائے جائیں۔ بصورت دیگر آج وزیراعظم ہاوس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ رہنماوں نے اعلان کیا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

 جنوبی پنجاب سے آئے تحریک جوانان پاکستان کے کارکن بھی دھرنے میں موجود ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ ملک بھر میں گرمی کے باعث انتخابات موخر کیے جائیں۔

فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام اور انتخابات

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات ( فاٹا) کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی جس کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی کی ساخت میں تبدیلی ہوگئی ہے اور آرٹیکل 106 (1) کے تحت صوبائی اسمبلی 145 ممبران پر مشتمل ہوگی، جس میں 115 جنرل نشستیں، 26 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 4 نشستیں غیر مسلموں کے لیے ہوں گی۔

اسی طرح فاٹا کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی کے لیے 14 جنرل نشستیں، 4 خواتین کی نشستیں اور ایک اقلیتی نشست ہوگی۔ تاہم فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کے مطابق انضمام کے بعد فاٹا کی قومی اسمبلی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن عام انتخابات کے ساتھ ہوں گے جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات 2019 میں کرائے جائیں گے۔

ELECTION

KPK

Set in

Tabool ads will show in this div