انورنامہ سچ ثابت ہوا:آٹھ سال پہلےانتقال کرجانے والا انتخابی میدان میں

ٹھٹہ میں آٹھ سال پہلے مردہ قراردیا گیا شخص الیکشن لڑنے آگیا ۔ پی ایس اٹھہتر سے امیدوار نے فراڈ کیس سے بچنے کےلئےخود کو مردہ ظاہرکیا تھا ۔

معروف مصنف و ہدايتکار انور مقصود کا ڈرامہ سچ ثابت ہوگيا۔۔ آٹھ سال پہلے مردہ قرار دیا گیا شخص ٹھٹہ سے الیکشن لڑنے میدان میں آگیا۔ صوبائی حلقے پی ایس 78 ٹھٹھہ سے 8 سال مردہ قرار دیا جانے والا ذاکر حسین زندہ ہو کر عوام کی خدمت کا عزم ظاہر کرنے لگا۔ذاکر حسین کا ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بھی جاری ہوچکا ہے۔

ذاکرحسین نے سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس78 سےآزادحيثيت ميں کاغذات جمع کرائے ہیں۔ موصوف نے سال 2010 میں فراڈ کیس میں سزا سے بچنے کیلئےخود کو مردہ ظاہرکیا۔ یونین کونسل کی دستاویزات کے مطابق ذاکر حسین کا انتقال 22 ستمبر 2010 کو ہوا تھا۔

نمائدہ سما نے اس حوالے سے مقامی افراد سے بھی بات کی جن کا کہناہے کہ ذاکر حسین پر کراچي ميں پلاٹ سے متعلق مقدمہ چل رہا ہےجس سے بچنے کيلئے اس نے مردہ ہونے کا ڈرامہ رچا رکھا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کیلئے زندہ ہونا کارآمد ثابت ہوا کیونکہ ذاکرحسین کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جاچکے ہیں لیکن جب اس حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے اپنا موقف دینے سے گریز کیا۔

پس منظر

واضح رہے کہ طنز ومزاح کے ذریعے معاشرتی برائیاں اجاگر کرنے والے انور مقصود نے پروگرام ’’انورنامہ‘‘ میں وڈیرہ شاہی کلچرکونشانہ بناتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ کئی لوگ قرضے معاف کرانے کیلئے خود کو مردہ ظاہر کرتے ہیں۔

انورمقصود کا موقف

معاملے پرانور مقصود کا کہنا ہے کہ وہ کئي لوگوں کو جانتے ہيں جنہوں نے قرض ليا اور پھر خود کو مردہ ظاہر کيا۔ سما سے گفتگو ميں بولے پچاس سال سے معاشرے ميں موجود برائيوں کو صرف اس ليے اجاگرکررہے ہيں تاکہ پاکستان ميں بہتري آسکے۔

انہوں نے کہا کہ ميري بات پرہنگامہ مچاياگيا توخاموش ہوگيا۔ معاشرے ميں موجود برائيوں کو اجاگرکرنے سے میرا مقصدکسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ايماندار لوگوں کو آگے لانا تھا۔

ANWAR MAQSOOD

elections 2018

Anwar Nama

#GE2018

PS-78 Thatta

dead man alive

Tabool ads will show in this div