غریب قوم کے امیر حکمران

بلاگر: شکیلہ شیخ

آج صبح دوران کلاس ایک طالبہ نے ہم سے پوچھا کہ واقعی میم بلاول اور مریم اتنے امیر ہیں جتنا ٹی وی پر بتایا جارہا ہے تو ہم اس لڑکی کا معصوم چہرہ دیکھتے ہی رہ گئے اور بولے کہ بیٹا جو بتایا جارہا ہے وہ تو وہ ہے جو انہوں نے خود بتایا ہے اگر تحقیق کی جائے تو یہ لوگ اس سے کہیں زیادہ امیر نکلے گے۔

وطن عزیز کے غریب عوام آجکل ٹی وی کے سامنے منہ کھولے بیٹھے ’’الیکشن تماشہ‘‘ دیکھ رہے ہیں۔ ایک طرف غریب عوام پر حکومت کرنے والے امیر حکمرانوں کے اثاثوں کی فہرست ہیں تو دوسری طرف ملکی و غیر ملکی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر ہماری غربت کا پول کھول رہے ہیں کہ پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد 6 کروڑ سے بھی بڑھ چکی ہے۔

الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیے گئے اثاثوں کی دستاویزات کے مطابق وطن عزیز کے امیر ترین سیاستدان چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ہیں، انہوں نے کاغذات نامزدگی میں ایک ارب 54 کروڑ 48 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے دستاویزات میں پاکستان اور بیرون ملک 23 جائیدادوں کی ملکیت ظاہر کی ہے جب کہ لندن اور دبئی میں بھی جائیداد کی ملکیت تسلیم کی حالانکہ بحریہ ٹاون لاہور میں جو محل ہے وہ اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا گیا جبکہ آصف زرداری اپنے بیٹے سے کم امیر ہیں وہ صرف 75 کروڑ 86 لاکھ 69 ہزار 73 روپے کے مالک ہیں اور 349 ایکٹر سے زائد زرعی زمین رکھتے ہیں، 7399 ایکڑزرعی زمین ٹھیکے پر لے رکھی ہے۔ آصف زرداری نے جو اثاثے ظاہر کئے ہیں ان سب کو گفٹس کی شکل میں ظاہر کیا ہیں اور کہا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کی طرف سے ملے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ بی بی نے اپنے اثاثے کبھی ظاہر نہیں کئے تھے جو آصف زرداری نے ظاہر کئے ہیں پی پی نے روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ پچاس سال پہلے لگایا گیا تھا لیکن آج تک یہ مسئلہ ہی حل نہیں کر پائے، سیاست دان پہلے صرف اقتدار کے حصول اور مزے لینے کے لئے آتے تھے لیکن نئے ماحول میں اب سیاستدانوں کو اپنے اثاثے بتانے پڑ رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کہا کرتی تھیں کہ میری پاکستان کے باہر تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں اور وہ ہی 1506 کنال ایک مرلہ زرعی زمین کی مالک نکلی گزشتہ 3 برسوں کے دوران 548 کنال کا اضافہ ہوا اور مختلف کمپنیوں میں ان کے شیئرز بھی ہیں 3 برسوں کے دوران 64 لاکھ روپے سے غیر ملکی دورے بھی کیے اور انکو 4 کروڑ 92 لاکھ کے تحائف ملے اور وہ ساڑھے 17 لاکھ کے زیورات کی بھی مالکہ ہیں۔

پی ٹی آی کے چیئرمین عمران خان نے اپنی کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیا ہے کہ 168 ایکڑ زرعی زمین کے وہ مالک ہیں عمران خان نے اپنے گزشتہ برس کے اثاثے 47 لاکھ 76 ہزار 611 روپے ہے، تنخواہ 18 لاکھ 991 روپے اور زرعی آمدن 23 لاکھ 60 ہزار روپے ہے زیر استعمال فرنیچر اور دیگر سامان کی مالیت 5 لاکھ اور ان کے پاس موجود جانوروں کی مالیت 2 لاکھ روپے ہےعمران خان نے اپنے ایک اکاونٹ میں 3 لاکھ 70 ہزار 760 ڈالر اور دوسرے اکاؤنٹ میں 1470 ڈالر لاہور اور اسلام آباد سمیت پاکستان میں 14 جائدادیں ہیں جو انہیں ورثے میں ملی ہیں اسی طرح جہانگیر ترین نے اپنے بچوں کو دوارب دس کروڑ کے گفٹس دیئے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بیان حلفی میں اپنے اثاثوں کی تفصیلات میں بتایا ہے کہ ان کے پاس 20 لاکھ روپے کا بنک بیلنس، ساڑھے 9 لاکھ روپے کی جیولری، 15 لاکھ روپے مالیت کا پلاٹ، شور کوٹ میں 7 لاکھ روپے مالیت کا ایک اور پلاٹ اور ذاتی گھر کی مالیت 25 لاکھ روپے ظاہر کی ہے۔ ان تمام سیساستدانوں کے اثاثے اس سے کہیں ذیادہ ہیں یہ تو وہ ہی بات ہوگئی ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور مگر پھر بھی ایک غریب آدمی یہ سوچتا ہے اتنا پیسہ ہونے کے باوجود یہ لوگ کیوں حکمرانی کیلئے اس قدر اتاولے ہوئے جارہے ہیں اور حلف ناموں تک میں جھوٹ لکھ رہے ہیں اپنی جائدادوں اور فرنیچرز کی قیمت متوسط گھرانوں سے بھی کم بتا رہے ہیں۔ یہ ہیں ہمارے حکمران جو اتنی پر آسایش زندگی گزار رہے ہیں پاکستان میں غریب کا کوئی پرسان حال نہیں آج پاکستانی عوام تنگ و ترش زندگی گزارنے پر مجبور ہے غریب عوام دن بہ دن پستے جارہے ہیں اور ہمارے حکمران امیرسے امیر ترین ہوتے جارہے ہیں۔

PTI

IMRAN KHAN

FAZAL UR REHMAN

jui f

elections 2018

Tabool ads will show in this div