موسیقی کو نہ روکیں، خیبرپختونخوا کے میلہ کی پکار

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/06/NF-TALIBAN-AND-TAMASHA-PKG-21-06-Hadi.mp4"][/video]

۔۔۔۔۔**  رپورٹ : محمد عرفان  **۔۔۔۔۔

جب کوئی خٹک آپ سے کہے کہ وہ غذا اور پانی کے بغیر جی سکتا ہے لیکن موسیقی اور اتنڑ (مخصوص خٹک ڈانس) کے بغیر نہیں تو آپ جان لیں کہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، شاید طالبان بھی یہ جانتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ اجتماعی طور پر کرک کو جھٹکا لگا جب شدت پسندوں نے کہا کہ یہ سب بند کردیں۔ سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ موسیقی اور ڈانس ہمارے خون میں شامل ہے، یہ ہمارا فخر ہے، وہ کیسے اسے روک سکتے ہیں۔

سمیع اللہ امبیری کلان میلے کے منیجر میں سے ایک ہے، میلے کا اہتمام کرک کے گراؤنڈ میں کیا گیا، جو ہنگو، بنو، کوہاٹ، شمالی وزیرستان اور لکی مروت کے راستے میں پڑتا ہے۔

میلے کا انعقاد کا آغاز قیام پاکستان سے قبل ہندوؤں کی جانب سے تجارتی راستے پر کیا گیا جن کا خطے میں کاروبار پر غلبہ تھا۔

قدیم گانے بنانے والے میوزیشن، فنکار، فوک گلوکار، گرم جوش نوجوان اور گروپس میلے میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کرنے آئے جسے یہاں تماشہ کہا جاتا ہے۔ انہیں شائقین سے حوصلہ افزائی کی توقع ہوتی ہے اور شاید تھوڑے پیسوں کی بھی۔

طلبہ اور ہارمونیم نواز جمعہ خان کا کہنا ہے کہ وہ موسیقی کا زمانہ تھا، جب ہر کوئی میری طرح میلے میں مشہور ہونے آتا تھا۔ اس نے اپنے کیریئر کا آغاز 90ء کی دہائی کے درمیانی عرصے میں کیا تھا، وہ میلے میں گاتا اور بجاتا تھا۔

لیکن 2008ء میں شمالی وزیرستان اور بنوں سے درجنوں شدت پسندوں نے میلے پر حملہ کرکے ’’تماشہ‘‘ روکنے کا حکم دیا تھا، انہوں نے موسیقی کے آلات فروخت کرنے والوں کو بھی دھمکی دی تھی، کہا تھا کہ اب سے اتنڑ اور خٹک ڈانس نہیں ہوگا۔

لوگوں کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا، گلوکاروں نے خود کو حجروں اور گھروں سے متصل حصوں تک محدود کرلیا تھا جہاں مرد عام طور پر جمع ہوتے تھے۔ پرہجوم مقامات پر دھماکوں کے خوف اور دھمکیوں کے باعث لوگ اپنے کاروبار سمیٹنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

ایک کپڑے بیچنے والے شخص حضرت علی نے بتایا کہ ’’طالبان نے ہمیں موسیقی کا کاروبار کرنے کے لئے کئی بار دھمکی دی اور سی ڈی کی دکان کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اجے سی ڈی کی دکان میں دھماکے کے بعد ہم نے اپنا کاروبار لپیٹ لیا‘‘۔

محقق پروفیسر ڈاکٹر زبیر وضاحت کرتے ہیں کہ اس ضلع میں امن کا سبب یہ تھا کیونکہ روایتی طور پر تقریباً 70 فیصد اس کے مرد ’’بیلٹ ملازمت‘‘ کر رہے ہیں۔ برطانوی راج کے بعد سے یہاں ہر گھر میں آپ کو ایک یا دو آدمی فوج یا پولیس میں خدمت کرتے ملیں گے۔ یہ لوگ ریاست کے نظریات کے وفادار ہیں، اس کی آبادی کی ڈیموگرافکس کی وجہ سے یہاں کم عسکریت پسندی ہوئی۔

اچھی خبر یہ ہے کہ اب لوگ اس بارے میں کھل کر بات کرنے کو تیار تھے کہ موسیقی اور اتنڑآہستہ آہستہ واپس آئے ہیں۔ ایک موسیقار جس نے اپنا نام نہیں بتایا، نے کہا کہ ہمیں بہت اچھے پیسوں کے ساتھ متحرک رقاصہ اور سننے والے مل رہے ہیں، ہم ایک دن میں تھوڑا کمانے کے قابل ہوگئے ہیں، یہ اس طرح نہیں جیسا کہ فنکار حجرے سے حاصل کرتے تھے۔

KPK

music

TALIBAN

KARAK

Attan

Tabool ads will show in this div