کالمز / بلاگ

مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کا نفاذ

وہی ہوا جس کا ڈر تھا، ایک مرتبہ پھر بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر پر گورنر راج نافذ کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکارنے اپنی ہی کٹھ پتلی حکومت کا خاتمہ کردیا اور وزیراعلی محبوبہ مفتی کی پارٹی سے اتحاد ختم کرکے گورنر راج نافذ کردیا۔ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے علیحدگی اختیار کی جس کے بعد کٹھ پتلی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے استعفیٰ دے دیا۔

بھارتی حکومت کے اشارے پر کام کرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی اپنا اقتدار نہ بچا سکیں۔ بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کے قتل عام پر مسلسل خاموش رہنے والی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے مستعفی ہوتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کی بحالی کیلئے پاکستان سے مذاکرات کرنا چاہئے۔ محبوبہ مفتی کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کے حالیہ بیان کی ہر وہ شخص حمایت کرے گا جو خطے میں امن چاہتا ہے کیونکہ یہ سچ ہے کہ کشمیر میں طاقت کا استعمال کرکے امن بحال نہیں کیا جاسکتا بلکہ بات چیت کے ذریعے ہی مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

بی جے پی کی جانب سے محبوبہ مفتی کی حکومت گرانے کا مقصد جہاں کشمیر میں بڑے پیمانےپرحریت پسندوں کےخلاف کاروائی اور لائن آف کنٹرول پر فوجی آپریشنزشروع کرنا ہےوہاں اس کا مقصد اگلےعام انتخابات کی تیاری ہے۔کشمیر میں حریت پسندوں کےخلاف آپریشنزاور لائن آف کنٹرول پرآپریشنز کا منصوبہ عام انتخابات کی حکمت عملی سے وابستہ ہے جس کا اثر صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں ہوگا اور یہ تاثر دیا جائے گا کہ نریندر مودی کشمیر، لائن آف کنٹرول اور ملک کی سلامتی کے معاملہ میں نڈر لیڈر ہیں۔

یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ بھارت کبھی بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ نظر نہیں آیا۔ بھارتی سرکار نے کشمیریوں کو طاقت کے زور پر دبانے کے لئے ایک مرتبہ پھر گورنر راج نافذ کردیا ہے۔ گورنر نریندر ناتھ وہرا چوتھی بار مقبوضہ کشمیر کی حکومت سنبھال رہے ہیں، اس سے قبل وہ 2008، 2015 اور 2016 میں گورنر راج لگائے جانے کے دوران خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پچھے چالیس برسوں میں آٹھ مرتبہ مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانےپرفوجی آپریشنز شروع کر دیئے گئے ہیں اور اس کے ساتھ بھارتی فوج کا لائن آف کنٹرول پر بھرپور کارروائیاں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد وادی کشمیر کے عوام میں سخت بے چینی بڑھ گئی ہے۔

بھارت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہے۔ بھارت سرحدوں پر کشیدگی پھیلا کر پہلے سے پریشان مظلوم کشمیریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ بھارت کی اس روائتی ہٹ دھرمی سے خطے کا امن غارت ہورہا ہے۔ بھارت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے جو قوم قربانیوں سے گریز نہیں کرتی اسے زیادہ دیر تک طاقت کے بل پر دبایا نہیں جاسکتا۔ دو طرفہ مسائل کو حل کرنے کے لئے برابری کی سطح پر ہی مذاکرات ہوسکتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کے بجائے یہ تسلیم کرے کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے۔ امریکہ بھی واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے۔ جس دن بھارت نے یہ تسلیم کر لیا کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے، بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں تو میں دعوی کرتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کا حل باآسانی نکالا جا سکتا ہے۔

disputed terrority

Tabool ads will show in this div