ایک زرداری، سب پر بھاری۔۔۔ کیا اس بار بھی؟

بلاگر: نوید نسیم

عام انتخابات کا میدان سجنے کو ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدواروں کو ٹکتیں الاٹ کرنا شروع کردیں۔ انتخابی جلسوں، جلوسوں، کارنر میٹنگز اور انتخابی دفاتر کھلنے کا سلسلہ عید کے بعد شروع ہونے کو ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ایلیکٹیبلز اور عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں کی تیاریاں عندیہ دے رہی ہیں کہ اب کی بار، عمران سرکار۔ لیکن کیا عمران خان وفاق میں حکومت بنا پائیں گے؟۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کو سوچ کر عمران خان بھی ایک مرتبہ چکرا ضرور جاتے ہوں گے اور اس کی وجہ یہ کہ عمران خان باخوبی جانتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں کسی بھی دوسری سیاسی جماعت سے الحاق کئے بغیر سادہ اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

تحریک انصاف والوں کی بد قسمتی کہیں یا پاکستان مسلم لیگ نواز والوں کی خوش قسمتی۔ پنجاب کے حصّے میں آنے والی قومی اسمبلی کی 141 نشستیں قومی اسمبلی کی ٹوٹل 272 نشستوں کا 53 فیصد ہے۔ جس کی وجہ سے کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے لازمی ہے کہ وہ بقیہ 131 نشستوں میں سے کم از کم 100 نشستیں حاصل کرے۔ جو کہ تحریک انصاف کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کیلئے بھی ناممکن ہے۔ وفاق میں حکومت بنانے کیلئے لازم ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا تو 272 میں سے نصف یعنی 136 نشستیں حاصل کرے۔ یا پھر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے سادہ اکثریت حاصل کرے۔

عام انتخابت سے پہلے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہونے والی سیاسی پیش رفت میں حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ تقریباً پانچ سالوں تک سوئے رہنے والے جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی جاگنے کے بعد تحریک انصاف کا حصّہ ہیں۔ جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی جنوبی پنجاب جس میں 46 قومی اسمبلی کی نشستیں آتی ہیں۔ انتخابی پوزیشن مظبوط ہوگئی ہے۔ ابھی تک کی صورتحال کے مطابق پچھلے دس سالوں سے پنجاب میں حکومت کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی سنٹرل اور شمالی پنجاب میں پوزیشن مستحکم ہے۔ جہاں سے 95 قومی اسمبلی کی اراکین قومی اسمبلی منتخب ہونگے۔

دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو سندھ کی 61 قومی اسمبلی کی نشستیں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ لیکن وفاق میں 136 نشستوں کی مطلوبہ تعداد حاصل کنے کیلئے لازمی ہے کہ ان نشستوں کے ساتھ بلوچستان کی 16 نشستیں اور فاٹا کی 12 نشستیں حاصل کرنے والوں کی سپورٹ بھی خیبر پختونخوا میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو دستیاب ہو۔

دوہزار تیرہ کے انتخابی نتائج پر اگر روشنی ڈالی جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے پنجاب کی 148 نشستوں میں سے 120 نشستیں حاصل کی تھی۔ جس کے بعد دیگر سیاسی جماعتیں جیسے جمعیت علما اسلام فضل الرحمان جیسی جماعتیں خود ہی نواز لیگ کی جھولی میں گر پڑیں تھیں۔

انتخابات سے پہلے ابھی تک کی صورتحال میں نہیں لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف، نواز لیگ کی طرح پنجاب میں 2013 جتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ تاہم موجودہ حالات کے مطابق لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے میں تو کامیاب ہوجائیگی۔ لیکن عمران خان کو وزیراعظم بنے کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سپورٹ ہر صورت درکار ہوگی۔ جس نے 2013 کے انتخابات میں صوبہ سندھ سے 34 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ چاہے تحریک انصاف قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئے۔ لیکن اس کے باوجود عمران خان وزیراعظم نا بن سکیں۔

جیسا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کو مفاہمت اور جوڑ توڑ کا ماسٹر سمجھا جاتا ہے اور ان کے کرشمات پہلے بلوچستان اسمبلی اور پھر سینیٹ انتخابات میں دیکھ چکے ہیں۔ اس لئے لگتا ہے کہ 25 جولائی کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی اہمیت تحریک انصاف اور نواز لیگ دونوں جماعتوں سے زیادہ ہوگی۔ کیونکہ دونوں میں سے کوئی جماعت بھی پیپلز پارٹی سے اتحاد، فاٹا اراکین کی سپورٹ اور جے یو آئی ف جیسی جماعتوں کی سپورٹ حاصل کرکے ہی حکومت بنا سکتی ہے۔ لہزا انتخابات سے پہلے ہی عمران خان کے وزیراعظم بنے کی خوشیاں منانے والے ڈریں۔ اس وقت سے جب کہ تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں اکثریت ہونے کے باوجود عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔

ZARDARI

IMRAN KHAN

TEHREEK INSAF

peoples party

political parties

elections 2018

Tabool ads will show in this div