کالمز / بلاگ

ٹکٹوں کی تقسیم پر سیاسی جماعتیں تقسیم

ملک کے طول و عرض میں عام انتخابات کی گونج ہے، تمام سیاسی جماعتیں بھرپور انداز میں انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں مگر ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل نے ہر سیاسی جماعت کو تقسیم کر دیا ہے۔ مختلف جماعتوں کے کارکنان سراپا احتجاج ہیں جنہیں پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر قیادت سے شکوہ ہے، ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اعتراضات، اختلافات اور جھگڑوں کی خبریں آئے روز سننے کو مل رہی ہیں۔ پرانے اور جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو نظر انداز کرکے بڑے بڑے جاگیر داروں، زمینداروں، وڈیروں اور بااثر شخصیات کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے پر سیاسی جماعتوں کے اندر شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں۔

انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم میں سب سے زیادہ اختلافات پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی میں موجود ہیں، جہاں کارکنان اور عہدیداران اپنی اپنی قیادت کے لئے درد سر بن گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے بنی گالا میں واقع عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر ڈیرہ ڈال رکھا ہے، جبکہ جیالوں نے کراچی میں بلاول ہاؤس کے باہر دھرنا دے رکھا ہے۔ احتجاج کرنا سیاسی کارکنان کا حق ہے اور کسی بھی جمہوری پارٹی کی قیادت کی یہ سیاسی و اخلاقی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ احتجاج کا نوٹس لے اور اگر کہیں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کرے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹکٹوں کی تقسیم پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے اور ایک فون نمبر بھی جاری کیا ہے جہاں تحریک انصاف کے کارکنان شکایات درج کرا سکتے ہیں مگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے مختلف اضلاع سے آئے جیالوں کے احتجاج کے باوجود خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ایک زمانے میں سب سے زیادہ جمہوریت پیپلز پارٹی میں تھی جہاں ہر کارکن محترمہ بینظیر بھٹو کے سامنے کھڑے ہو کر پارٹی قیادت کے فیصلوں اور پالیسیوں سے اختلافات کر سکتا تھا مگر اب عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جہاں فیصلے ایک ڈکٹیٹر کرتا ہے۔

ٹکٹوں کی غلط تقسیم کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، حال ہی میں پیپلز پارٹی کے پانچ سابق ایم این ایز نے بغاوت کردی ہے جسے انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کے لئے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ جن پانچ سابق ایم این ایز نے پیپلز پارٹی کو خیرباد کہا ہے ان میں بدین سے غلام علی نظامانی جی ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیں۔ گھوٹکی کے سردار علی گوہر مہر نے بھی راہیں جدا کرلی ہیں۔ تھرپارکر سے فقیر شیر محمد نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ دادو کے سابق ایم این اے طلعت مہیسر بھی پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، سابق وزراء اور پارٹی کارکنان بھی ٹکٹوں کی تقسیم کو بندر بانٹ قرار دے کر قیادت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں نواز لیگ کے سابق وزراء، کارکنان اور کئی رہنما منظورِ نظر افراد کو ٹکٹ دینے پر نالاں نظر آتے ہیں اور سابق اراکین اسمبلی آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کے آپس کے اختلافات نے بھی پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل کو متاثر کیا ہے۔ اس وقت پارٹی کی قیادت ایم کیو ایم بہادرآباد کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کے پاس ہے اور ان پر رابطہ کمیٹی کے اراکین کا شدید دباؤ ہے کہ ایم کیو ایم پی آئی بی گروپ کے فاروق ستار، علی رضا عابدی اور کامران ٹیسوری کو ٹکٹ جاری نا کئے جائیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے تمام بڑی سیاسی جماعتیں خود تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔

PTI

PML N

Tabool ads will show in this div