کالمز / بلاگ

مظلوموں کو بیدار ہونا ہوگا

دیر آید درست آید، امریکہ نے بالآخرپاکستان کے ڈو مورکے تقاضے کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور پاکستانی شہریوں کے قاتل ملا فضل اللہ کو انجام تک پہنچایا۔ وہی ملا فضل اللہ جس نے سوات کی خوبصورت وادی گل رنگ کو لہورنگ کیا تھا، وہی قاتل جس نے اے پی ایس کے معصوم بچوں کے خون سے ہاتھ رنگے تھے، وہی خونی بھیڑیا جس نے تعلیمی درسگاہوں ، چوک چوراہوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا۔یہ خبر پوری پاکستانی قوم کے لئے گرم رت میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے تو ساتھ ہی ساتھ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نئی پیشرفت کا سندیسہ بھی۔

امریکہ سمیت پوری عالمی برادری کو اس بات کا اندازہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا ہےتوپاکستان کےکردارکوتسلیم کرنا ہوگا۔مگرالٹی کھوپڑیوں والوں کا کیا کریں کہ ہر دم پاکستان سے ہی مزید اقدامات کا مطالبہ کررہےہیں ۔ عالمی امن کی خاطر پاکستان نے جتنی قربانیاں دِیں شاید ہی کوئی ملک دے سکے۔ہزاروں فوجیوں اور سویلین کی شہادتیں اورانفراسٹرکچرکابے تحاشا نقصان،جس کا تخمینہ اربوں ڈالرمیں بتایاجارہا ہے۔ لیکن بدلے میں کیا ملا سوائے رسوائی اور بدنامی کے؟

چلیں دیر سے ہی سہی امن کے عالمی ٹھیکیدار کو یہ اندازہ تو ہوا۔ افغانستان میں خون کی ہولی کو روکنا پاکستان کے تعاون کے بغیر دیوانے کا خواب ہے اور اس عمل میں اگر چین اور روس بھی ساتھ دے تو سونے پہ سہاگہ۔ کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت دونوں ملکوں کے درمیان سردمہری کی فضا کو کسی حد تک گرمجوشی میں بدل سکتی ہے۔ ملا فضل اللہ کی ہلاکت اور ساتھ ہی طالبان کی جانب سے عید کے دنوں میں سیز فائر پررضا مندی، یہ یقیناً شورش زدہ افغانستان اور خطے کیلئے نیک شگون ہے جس کے مستقبل قریب میں انتہائی اچھے اثرات مرتب ہونگے۔

سیز فائر کے بعد افغان طالبان کا مختلف جگہوں میں گھومنا پھرنا، عام لوگوں سے ملنا، سیکیورٹی فورسز سے گلے لگنا، یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ طالبان بھی جنگ و جدل سے اکتا چکےہیں اور وہ بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ تاہم اپنے مطالبات سے ہرگز پیچھے ہٹنے والے نہیں۔جبکہ افغانستان کے لوگ بھی تلخ ماضی بھلانے کے لیے تیار ہیں۔ بارود کی زہریلی بو سے ان کی نسلیں تک مٹ گئیں۔ افغان سرزمین عالمی طاقتوں کے لئے تجربہ گاہ بنی رہی۔ گزشتہ سترہ برسوں میں افغانستان میں کیا کیا تجربات نہ کئے گئے؟ ڈیزی کٹر بموں سمیت مختلف جدید ہتھیاروں کو یہاں آزمایا گیا۔ کولیٹرل ڈیمیج کی آڑ میں بے گناہ شہریوں کو قتل کیا گیا۔ برسوں سے جنگ کی آگ میں جلنے والے یہ بے بس لوگ اب امن چاہتے ہیں،آشتی چاہتےہیں، تعمیر و ترقی چاہتےہیں۔

  اب جبکہ خطے کی صورتحال بدل رہی ہے۔ عالمی سطح پر معاملات کچھ اور رخ اختیار کررہےہیں۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ چین کی ابھرتی معیشت اور کئی عشروں تک گوشہ نشینی میں رہنے والا روس اب انگڑائی لے رہا ہے۔ چین کو اپنی مصنوعات کیلئے کھلی منڈی کی ضرورت ہےاور کاروبار کے لئے تب تک حالات ہموارنہیں ہوسکتے جب تک کہ امن و امان نہ ہو۔ اسی لئے طالبان کو رام کرنے میں اور انہیں مذاکرات پر امادہ کرنے میں روس اور چین بھی زبردست کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ٹرمپ سرکاراگر واقعی اس طویل جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے، اس تاریک رات کا اختتام چاہتی ہے اور حقیقت میں اس دلدل سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے مزید اقدامات کرنا ہونگے۔ ملا فضل اللہ کی ڈرون حملے میں ہلاکت نے ثابت کردیا کہ پاکستان کے دشمن سرحد پار کے اس پار بیٹھے  اشرف غنی کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔ ان کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنا ہوگا۔

سربراہ ٹی ٹی پی کے خلاف امریکہ کے اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ٹریک پر آسکتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھلے گی تو تب ہی افغانستان میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔ تاہم اس کےلئے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو اور اعتماد کی فضا تب تک بحال نہیں ہوسکتی جب تک کہ سرحد پار سے دراندازی نہ روکی جائے،  تحریک طالبان پاکستان کے بقیہ کارندوں کو ہلاک یا پاکستان کے حوالے نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغان مصالحتی کوششوں کو تیز کرنا ہوں گی۔ مودی سرکار کی محبت کے گن گانے والے اشرف غنی کو بھی سمجھنا ہوگا کہ بھارت کی دوستی کے عوض پاکستان سے دشمنی ہرگز عقل مندی نہیں۔ انہیں زمینی حقائق تسلیم کرنا ہونگے، پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہنا ہوگا۔

Mulla Fazal ullah