چیف جسٹس نےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کےتعین پرسوالات اٹھادئیے

پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس ختم ہونے کی امید بھی پیدا ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کےتعین کے طریقہ کارپرسوالات اٹھادیے۔درآمدات کےعمل پرشکوک وشبہات کااظہارکردیا۔انھوں نےریمارکس دیےکہ گھربیٹھےبیٹھےقیمتیں بڑھادی جاتی ہیں،ساراحساب دینا ہوگا۔چیف جسٹس نے6ماہ کاریکارڈطلب کرلیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نےپیٹرولیم قیمتوں کےتعین کےطریقہ کارپرعدم اطمینان کااظہارکردیا۔چیف جسٹس کوقیمتوں کےتعین پرڈپٹی ایم ڈی پی ایس اویعقوب ستارنےبریفنگ دی تھی۔انھوں نےگزشتہ چھ ماہ کے آکشنز، برآمدات اور قیمتوں کےتعین کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نےریمارکس دیےکہ گھربیٹھےبیٹھے،قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں،ساراحساب دینا ہوگا۔ٹیکس لگالگاکرلوگوں کوپاگل کردیا ہے۔کس بات کاٹیکس ہےساراحساب دیناہوگا،پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کاعمل مشکوک لگتا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیےکہ کس قانون اورطریقہ کارکےذریعے62.8روپےفی لیٹرکاتعین کیاگیا؟

یعقوب ستار نےبتایاکہ ہمارےمختلف اداروں پر3سوارب روپےواجب الاداہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ اخراجات کیلئےبینک سےقرضہ لیتےہیں؟کتناسوداداکرتےہیں؟۔ ڈپٹی ایم ڈی پی ایس اونےبتایاکہ بینکوں سے95ارب روپےقرضہ لےرکھاہے۔سالانہ سات ارب روپےسوداداکرتےہیں۔

چیف جسٹس نےسیکریٹری پیٹرولیم اورسیکریٹری وزارت توانائی کوجمعہ کےدن طلب کرلیا۔

Tabool ads will show in this div