سوات، عوام نے احتجاجاً مٹلتان بجلی گھر پر کام بند کروا دیا

ضلع سوات کی وادی کالام میں عوام نے مٹلتان پاور ہاوس کے زد میں آنے والی اراضی کا معاوضہ نہ ملنے اور معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام بند کروا دیا۔ 

سوات کی وادی کالام میں زیر تعمیر 84 میگاواٹ مٹلتان پن بجلی گھر میں متاثرہ اراضی مالکان کو معاوضوں کی عدم ادائیگی، غیرمقامی ملازمین کی بھرتیوں اور منصوبے میں شامل کالج اور اسپتال کی عدم تعمیر کے خلاف علاقہ مکین احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے اور  خیبر پختونخوا حکومت سمیت متعلقہ اداروں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے دفاتر کو تالے لگوا کر کام مکمل طور پر روک دیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے علاقہ مشران نے کہا کہ منصوبے کے ماہدے میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سمیت تمام اعلی افسران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ منصوبے کی زد میں آنے والی اراضی کے مالکان کو معاوضہ ادا کیا جائے گا، پاور ہاوس میں افرادی قوت کے لیے مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے گا اور ساتھ ہی ایک کالج اور اسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا تاہم ابھی تک ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔

مظاہرین نے نگراں صوبائی حکومت، نگراں وزیر اعظم جسٹس ناصرالملک اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کو فوری طور پر معاوضہ ادا کیا جائے اور ان کے ساتھ کئے گئے معاہدے کوعملی جامہ پہنایاجائے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ جب تک معاہدے پرعمل نہیں کیاجاتا وہ منصوبے پر کام کرنے نہیں دیں گے۔

اس معاملے پر موقف لینے کے لیے مٹلتان پن بجلی گھر کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مقامی صحافی حیات محمد کالامی کا کہنا ہے کہ وادی کالام میں تعلیم اور صحت کے سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ پوری وادی کالام میں کوئی کالج نہیں۔ ایک سول اسپتال ہے جہاں اسٹاف اور آلات ناپید ہیں۔ روزگار کے مواقع بالکل نہیں۔ اس منصوبے سے مقامی آبادی کو تعلیم، صحت اور روزگار کی امیدیں وابستہ ہوگئیں تھیں تاہم متعلقہ اداروں نے معاہدے پرعملدرآمد نہیں کیا جس کے باعث مقامی آبادی خاص طور پر نوجوانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ منصوبہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں منظور ہوا تھا اور 2012 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ امیدر حیدر ہوتی نے اس کا افتتاح کیا لیکن افتتاح کے بعد اس پر کام شروع نہ ہوسکا۔

 

بعد ازاں 2013 میں تحریک انصاف نے بھی اقتدار میں آکر کئی سال تک اس منصوبے کو سردخانے میں رکھا۔ بالاخر 2 دسمبر 2016 کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ایک بار پھر اس منصوبے کا افتتاح کیا۔

پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے مطابق  منصوبے کی لاگت ابتدائی طور پر 22 ارب روپے تھی جو بڑھ چکی ہے اور منصوبے اب تک 50 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا۔

PTI

KPK

IMRAN KHAN

IK

Power Project

Hydel power

Tabool ads will show in this div