الیکشن 2018: سیاسی جماعتوں کے شاہانہ اخراجات

تحریر: فضل الہی

کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اخراجات کی حد کا تعین کرنے کے لیے کوئی قانون ہی موجود نہیں۔ الیکشن مہم کا آغاز ہوگا تو جلسوں اور ریلیوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے جائیں گے۔ اسٹیج، پنڈال سجانے کے علاوہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے پنڈال بھرنے کے لئے لوگوں کی آمدورفت پر بھی لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔ پچیس جولائی دو ہزار اٹھارہ کو ہونے والے انتخابات سے قبل ہی سیاسی جماعتیں کروڑوں روپے خرچ کر چکی ہیں۔ سیاسی جماعتیں الیکشن  ‏ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کے پرسنل سیکریٹری سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال کر کے سوات میں کاغذات نامزدگی کے لئے پیش ہوتے رہے تو دوسری طرف ایک نجی ایئرکرافٹ کی چند روز میں لاڑکانہ اور کراچی کے درمیان ریکارڈ پروازیں ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے وکیل اور پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے چند دنوں میں کراچی سے لاڑکانہ اور لاڑکانہ سے کراچی کے درمیان متعدد مرتبہ سفر کیا۔ فاروق ایچ نائیک آصف زرداری، بلاول بھٹو اور فریال تالپور کے وکیل ہیں جو پہلے بلاول بھٹو کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے لاڑکانہ گئے اور پھر لاڑکانہ سے کراچی کا سفر کیا۔

فاروق ایچ نائیک فریال تالپور کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کا جواب دینے تین بار لاڑکانہ پہنچے۔ فاروق ایچ نائیک کراچی میں بلاول بھٹو کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال میں بھی پیش ہوئے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے آخری روز فاروق ایچ نائیک پہلے کراچی اور پھر لاڑکانہ پہنچے۔ پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہونے کا دعوی کرتی ہے اور بلاول بھٹو خود کو عوامی لیڈر کہتے ہیں مگر ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور اسکروٹنی پر کروڑوں روپے کے اخراجات ہوئے۔ چند روز کے دوران نجی طیارے کی کراچی سے لاڑکانہ اور لاڑکانہ سے کراچی پروازوں پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کراچی اور لاڑکانہ آمدورفت کے اخراجات اسکے علاوہ ہیں۔

کچھ دن پہلے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے نجی طیارے پر عمرہ کی ادائیگی پر شدید تنقید ہوئی۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماؤں اور کارکنان نے بھی عمران خان کے نجی طیارے میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے پر تنقید کی مگر اپنی پارٹی قیادت کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے وکیل کے لئے نجی طیارے کے استعمال پر اور کروڑوں اخراجات پر خاموش رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا بے کہ بے دریغ اخراجات کیا انتخابی قواعد کی خلاف ورزی نہیں؟ وکلاء اور پارٹی رہنماؤں کے فضائی سفر کے اخراجات پارٹی فنڈ سے ہوئے یا ذاتی اکاونٹ سے؟ الیکشن کمیشن خاموش کیوں ہے؟

سیاسی جماعتیں الیکشن مہم کے دوران جلسوں اور ریلیوں پر کروڑوں روپے خرچ کر دیتی ہیں اور الیکشن جیتنے کے بعد اپنی لگائی ہوئی رقم واپس بٹورنا شروع کر دیتی ہیں اس لئے اب سیاست کو کاروبار کہا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے سیاسی کارکنان کے بجائے بڑے بڑے تاجروں اور پیسے والوں کو پارٹی ٹکٹ دیئے ہیں۔ تھرپارکر سے پیپلز پارٹی کے امیدوار قاسم سراج سومرو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے جبکہ انکے والد محمد سراج سومرو سندھ حکومت کے سب سے بڑے کنٹریکٹر ہیں جو مختلف اراکین اسمبلی کے فنڈز سے شروع ہونے والی اسکیموں پر بھی کام کر چکے ہیں۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اخراجات کی حد کا تعین کرنے کے لیے قانون کا نا ہونا حیران کن ہے۔ الیکشن کمیشن فوری طور پر امیدواروں کی تعداد یا کسی اور پیمانے کی بنا پر سیاسی جماعتوں کے لئے اخراجات کی حد مقرر کرنے کے لیے نگراں حکومت کو قانون سازی کے لیے مسودہ پیش کرے تاکہ غریب جماعتوں کے شاہانہ اخراجات پر نظر رکھی جا سکے۔

PTI

political parties

elections 2018

Tabool ads will show in this div