پرنا کااستعمال ضرورت سے فیشن تک اہم ہوگیا

Jun 20, 2018
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/06/Parny-Ki-Dhaal-Isb-Pkg-20-06-1.mp4"][/video]

سرکی چادر صرف خواتین تک محدود نہیں۔گرمی نے مردوں کو بھی سرڈھانپنے پر مجبورکرديا۔راولپنڈی میں آج کل مردوں کے سرپر بھی ایک بڑا سا رومال لازمی دکھائی دیتا ہے جسے پرنا کہتے ہیں۔

مردوں کے سرپرہلکی پھلکی چادر یا رومال کبھی روایت بھی تھی اوراب فیشن بھی بنتی جارہی ہے۔ یہ رنگ برنگے پرنے فیشن سے زیادہ مجبوری اور دھوپ کی یلغار کے آگے ڈھال بن چکے ہیں۔

کوئی موٹرسائیکل پر یا  رکشے پر یا پھر پیدل،سب اسی کی پناہ میں سرچھپائے جاتے ہیں کیونکہ اس کے دم سے گرمی میں ذرا نرمی آجاتی ہے۔لو کے گرم تھپیڑوں سے بچنے کے لیے پرنے کا ساتھ ضروری سمجھا جانے لگا۔

اگر خشک پرنے سے کام نہ چلے اور گرمی زیادہ جی جلائے تو پرنا بھگو کر اس کاتوڑکیاجاسکتا ہے۔پرنا جہاں لو اور گرمی سے بچاتا ہے تو ساتھ ہی فیشن کا بھی حصہ ہے۔

Tabool ads will show in this div