این اے 247: بڑے سیاسی ناموں میں سے میدان کون مارے گا؟

دوہزاراٹھارہ کے عام انتخابات میں بہت سے حلقے ایسے ہیں جو مضبوط امیدواروں کے باعث نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ انہی میں سے ایک کراچی کا حلقہ این اے 247 ہے جو ڈیفنس، کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ، صدر، کراچی کنٹونمنٹ اور آرام باغ پر مشتمل ہے۔ نئی حلقہ بندیوں سے پہلے گزشتہ عام انتخابات میں یہ حلقہ این اے 250 تھا۔

سیاسی جماعتوں نے اس اہم ترین حلقے سے تگڑے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

اس حلقے سے نشست کی جنگ کے لیے پی ٹی آئی کے عارف علوی، ایم کیو ایم پاکستان کے فاروق ستار، سربراہ پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال ،امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان ، سربراہ آل پاکستان مسلم لیگ پرویز مشرف ، پی پی کے سابق ایم این اے عبدالعزیز میمن اور آزاد امیدوار سماجی رہنما جبران ناصرشامل ہیں۔

دوہزارتیرہ کےعام انتخابات میں اس حلقے سے پی ٹی آئی رہنما عارف علوی ایم این اے منتخب ہوئے تھے جبکہ 2008 میں یہ نشست ایم کیو ایم کی امیدوار خوش بخت شجاعت کے حصے میں آئی تھی۔ آزاد امیدوارجبران ناصر جو کہ انسانی حقوق کے حوالے سے ایک سرکردہ شخصیت ہیں سال 2013 میں یہ نشست ہار گئے تھے مگر 259 ووٹوں کے معمولی فرق کے ساتھ ۔

فاروق ستار اور عبدالعزیز میمن نے گزشتہ عام انتخابات میں ضلع غرنی کے حلقہ این اے 249 سے حصہ لیا تھا۔ یہ نشست فاروق ستار نے 45 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتی تھی۔

کراچی کی سیاست میں جنرل پرویز مشرف کی انٹری بہت سے افراد کے لیے حیرت کا باعث ہے۔ وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کرنے کیلئے چیف جسٹس نے نادرا کو ان کا قومی شناختی کارڈ ان بلاک کرنے کے علاوہ پرویز مشرف کو ائرپورٹ سے عدالت تک گرفتار نہ کرنے کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں۔ پرویز مشرف نے چترال کے حلقہ این اے 23 سے بھی کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی پانچوں حلقوں سے مسترد کردیے گئے تھے جس کا سبب ان کے خلاف آئین شکنی کے مقدمات کے باعث الیکشن کمیشن میں انہیں نااہل قرار دینے کیلئے دائر کی جانے والی درخواستیں بنیں۔

سربراہ پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال 2016 میں اپنی پارٹی کی تشکیل اور ایم کیو ایم سے راہیں جدا کرنے کے بعد پہلی دفعہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

elections 2018

#GE2018

NA 247

Tabool ads will show in this div