کراچی کی سیاست اور عام انتخابات

تجزیہ: فضل الہی

کراچی وہ شہر ہے جس کا سیاسی درجہ حرارت کبھی کم نہیں ہوتا۔ ملک بھر کی طرح شہر قائد کی سیاست میں بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کراچی میں جہاں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے سیاسی وفاداریاں تبدیل کیں وہیں ایک جماعت ایسی بھی ہے جس کے رہنماؤں نے اپنے قائد سے ہی وفاداریاں بدل ڈالیں۔

ایم کیو ایم جو کبھی کراچی کی سب سے بڑی جماعت سمجھی جاتی تھی آج پانچ دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایم کیو ایم لندن، ایم کیو ایم بہادر آباد، ایم کیو ایم پی آئی بی اور ایک گروپ اور ہے جو سلیم شہزاد کی سربراہی میں سرگرم ہے۔ پانچواں گروپ ایم کیو ایم کے رہنماؤں پر مشتمل بننے والی نئی سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کا ہے جبکہ ایم کیو ایم (حقیقی) کو میں نے اس گنتی میں شامل نہیں کیا تو یوں ایم کیو ایم کے کل چھ دھڑے ہیں۔

ایم کیو ایم حقیقی ایک الگ سیاسی جماعت ہے جس کا انتخابات میں کراچی سے دو سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ سلیم شہزاد گروپ الیکشن میں حصہ نہیں لے رہا جبکہ ایم کیو ایم لندن نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم بہادر آباد کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں ضرور حصہ لیں گے جبکہ ایم کیو ایم پی آئی بی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے بھی انتخابات کے بائیکاٹ کا عندیہ دیا ہے۔ ایم کیو ایم لندن کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد فاروق ستار نے اگر انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تو اس الزام کو تقویت ملے گی کہ فاروق ستار کے ایم کیو ایم لندن سے آج بھی رابطے ہیں۔ اگر پچیس جولائی کو ہونے والے انتخابات سے قبل ایم کیو ایم پی آئی بی اور بہادر آباد گروپ متحد ہو کر الیکشن لڑنے کا اعلان کرے تو شاید ایم کیو ایم بڑے سیاسی نقصان سے بچ جائے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کراچی کی سیاست میں خاص دلچسپی نہیں لے رہے کیونکہ انکی نظریں پنجاب کے سیاسی میدان پر ہیں یا پھر وہ اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ کراچی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کو کوئی خاص کامیابی نظر نہیں آ رہی۔ ایک وقت تھا جب سمجھا جاتا تھا کہ ایم کیو ایم کو کراچی میں شکست دینا اتنا ہی مشکل ہے جتنا سندھ کے چھوٹے شہروں میں پیپلزپارٹی کو شکست دینا مگر اب دونوں جماعتوں کی پوزیشن ماضی کی نسبت کمزور ہے۔

کراچی کی سیاست سے متحدہ مجلس عمل کو مائنس نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر مذہبی جماعتوں پر مشتمل سیاسی اتحاد ملک بھر کی طرح کراچی کی بھی تیسری بڑی قوت بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ بلدیہ ٹاؤن، قائد آباد سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں مذہبی جماعتوں کی پوزیشن مظبوط ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایم ایم اے چار سے پانچ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

کراچی میں سندھ کی قوم پرست جماعتوں کا ووٹ بینک نا ہونے کے برابر ہے البتہ کراچی کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی آئندہ عام انتخابات میں کراچی سے تاریخی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کی دھڑے بندیوں اور کراچی کی سیاست میں تحریک انصاف اور (ن) لیگ کی عدم دلچسپی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں جس کے بعد یہ کہنا بلکل بھی غلط نا ہوگا کہ آئندہ عام انتخابات میں کراچی میں اصل مقابلہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان ہوگا۔

PTI

Politics

elections 2018

Tabool ads will show in this div