کالمز / بلاگ

پاک افغان سرحد پر فائرنگ

تحریر : ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور

پاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیا کے اہم ممالک ہیں جو مذہبی، تاریخی، جغرافیائی اور لسانی وابستگی رکھتے ہیں، پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں کے آر پار دونوں جانب پشتون خاندان آباد ہیں جو صدیوں سے ایک دوسرے سے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، ان کا آپس میں جدا ہونا ناممکن ہے، یہ دونوں ممالک آپس میں بھائی بھائی ہیں، اس کے علاوہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ بہت سے معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آسکے لیکن اس کے باوجود دشمن ملک بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کیخلاف زہر اگلتا رہتا ہے۔

جس طرح بھارت نے ایل او سی پر مسلسل فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس کا پاکستانی فوج بھرپور جواب دے رہی ہے لیکن اب بھارت کا نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا کہاں کی دانشمندی یا بہادری ہے، پاک فوج دشمن ملک کی ہر چال کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، دشمن ملک بھارت افغانستان میں بیٹھ کر بھی چال چل رہا ہے اور اب آئے دن افغانستان سے بھی فائرنگ کے واقعات رونماء ہونے لگے ہیں، کچھ ماہ پہلے بھی کرم ایجنسی میں جوانوں پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ باڑھ لگانے اور اس کے معائنے کا کام کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں 2 ایف سی کے جوان شہید اور 5 زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستانی فوج نے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی سے گریز کیا تاکہ افغان شہری آبادی کو نقصان نہ پہنچے لیکن ابھی حال ہی میں ایک واقعہ باجوڑ کے مقام پر اور دوسرا واقعہ بلوچستان کے علاقے قمر دین کاریز پر اس وقت پیش آیا جب وہاں باڑھ لگانے کا کام جاری تھا، دشمن باڑھ اور پاک فوج کی چوکیاں قائم ہونے سے خائف ہے کیونکہ ان راستوں سے ملک دشمن عناصر اسلحہ، بارود اور خودکش افراد کو داخل کرتے ہیں تاکہ وہ پاکستان کے امن کو نقصان پہنچا سکیں لیکن ہماری افواج دن رات کام کرکے ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنانے کا کام کررہی ہیں اور اس کے نتیجے میں آئے دن ہمارے جوان فائرنگ سے زخمی اور شہید ہورہے ہیں۔

پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ صورت کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکے تاکہ بدامنی اور دہشت گردی کو شکست دی جاسکے، دونوں ممالک پاکستان اور افغانستان کو مل کر کوشش کرنی ہوگی کہ دونوں آپس میں بھائی بھائی ہیں، دونوں ایک دوسرے کیخلاف بر سر پیکار نہیں ہوسکتے، افغانستان کو یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان سب سے بڑا ملک تھا جس نے اپنے افغان بھائیوں کو اپنے حالات بہتر نہ ہونے کے باوجود پناہ دی اور انہیں ہر وہ سہولت میسر کی جو ایک پاکستانی شہری کو میسر تھی، اس لئے افغانستان کو پاکستان کا یہ احسان کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ افغانستان پاکستان کا شکریہ ادا کرتا لیکن دشمن بھارت کی چالوں میں آکر پاکستان کیخلاف نہ صرف زہر اگلتا رہا بلکہ فائرنگ کرکے پاکستانی شہریوں اور افواج کو نقصان بھی پہنچاتا رہا، اس کے باوجود دنیا کی بہترین افواج میں شامل فوج تحمل اور برد باری کا مظاہرہ کررہی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ان چالوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، دونوں اسلامی برادر ملک کو آپس کے رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، ہم نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ آپس میں ایک دوسرے کے پڑوسی بھی ہیں، ہماری پوری کوشش ہے کہ افغانستان میں پھر سے امن و سکون ہو، ہم جانتے ہیں ایک خوشحال افغانستان ہی ایک خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔

حالیہ فائرنگ دہشت گردوں کی جانب سے کی گئی جس کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا اور اس کے نتیجے میں 6 دہشت گرد مار دیئے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ ہمارے ایف سی کے 4 اور پاک فضائیہ کا ایک جوان زخمی ہوا، ان حملوں کا مقصد صرف اور صرف باڑھ اور پوسٹوں کی تعمیر کو روکنا ہے لیکن ہم اپنے ملک کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور امید ہے کہ باڑھ کا کام جلد مکمل کر لیا جائے گا تاکہ کوئی دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔

TALIBAN

proxy war

Tabool ads will show in this div