ڈاکٹرشاہد مسعودنےضمانت قبل ازوقت گرفتاری کےلیےاسلام آبادہائی کورٹ سےرجوع کرلیا

Artwork by: Shaikh Faisal Rasheed

ڈاکٹرشاہد مسعود نےضمانت قبل ازگرفتاری کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

ڈاکٹرشاہد مسعود کی طرف سے ان کےکوآرڈینٹر نے ہائیکورٹ میں ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست دائرکی۔ درخواست میں استدعاکی گئی کہ پاکستان پہنچنے پر ایف آئی اے کو ڈاکٹر شاہد مسعود کی گرفتاری سے روکا جائے۔ یہ بھی استدعا کی گئی کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کالعدم قرار دیئے جائیں۔

درخواست میں موقف اختیارکیاگیاہےکہ شاہد مسعود تجزیہ کار ہیں اور کھلے عام حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں،انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانےکیلئےایسا مقدمہ کھولا گیا جس کی انکوائری مکمل ہوچکی ہے۔دوہزار پندرہ میں ایف آئی اے انکوائری کےبعد 3 افراد کیخلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا۔

درخواست میں یہ بھی بتایا گیاہےکہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو 2015 میں درج ہونے والے مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل پي ٹي وي کرپشن کيس ميں اسلام آباد کے سینئرسول جج عامرعزیز نے سابق چیئرمین پی ٹی وی شاہد مسعود کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے جبکہ ایف آئی اے نےیہ وارنٹ گرفتاری حاصل کرليے۔

ايف آئي اے کے مطابق شاہد مسعود پرمبینہ طورپرتين کروڑاسي لاکھ کی بدعنواني کا الزام ہے۔چیئرمین پی ٹی وی کےطور پر شاہد مسعود نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا رائٹس حاصل کرنے کیلئے جعلی کمپنی سے معاہدہ کیاجس سے پاکستان ٹیلی وژن کو کروڑوں کا نقصان اٹھنا پڑا۔

ايف آئي اے کے مطابق تفتیشی آفسیر کاشف ریاض اعوان کی درخواست پرڈاکٹر شاہد مسعود کے خلاف ایف آئی اے کے پاس گرفتاری کیلئے کثیر ثبوت موجود ہیں۔

Shahid Masood

PTV corruption case

Tabool ads will show in this div