عمران خان کا 5 سالہ دور احتجاج۔

Jun 04, 2018

قومی اسمبلی کے 4 حلقوں میں دھاندلی کے الزامات۔  پنجاب میں 35 پنکچرز اور جعلی بیلٹ پیپرز کی لاہور کے اردو بازار سے چھپائی۔لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ۔ اسلام آباد میں 126 دنوں کا دھرنہ اور سوّل نافرمانی کا اعلان۔ سیکڑوں جلسے، ریلیاں اور احتجاج۔ قبل از وقت انتخابات کروانے کا مطالبہ۔ پنجاب کے نگران وزیراعلی کے لئے نامزد کردہ ناموں پر یو ٹرن۔ یہ سب کچھ اور بہت کچھ ہوا پاکستان تحریک انصاف کے پانچ سالہ احتجاجی دور میں۔ جو کہ 11 مئی 2013 کو ہونے والے دسویں عام انتخابات کے نتائج کے بعد شروع ہوا تھا۔ ان پانچ سالوں میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی، حکومت سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے علاوہ 2 شادیاں بھی کیں۔ بلکہ یہ حقیقت پاکستانی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیگی کہ عمران خان کی 2 شادیاں نواز لیگ کے 5 سالہ دور میں ہوئی تھیں۔ پاکساتن کی 70 سالہ تاریخ میں یہ دوسرا موقع تھا۔ جب خالص جمہوری طریقہ کار سے منتخب ہونے والی حکومت نے اپنا 5 سالہ دور مکمل کیا۔ جو کہ بنا کسی شک اور شبہے کہ ایسا مشکل اور کٹھن ترین دور تھا۔ جسمیں نواز لیگ کی حکومت کو عمران خان نے ناکوں چنے چبوا دیئے۔

قومی اسمبلی کے 4 حلقوں میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے الزامات سے شروع ہونے والا احتجاج مختلف مراحل سے ہوتا ہوا، آخر کار مطلوبہ مقاصد حاصل کئے بغیر نواز حکومت کے اختتام پر اختتام پزیر ہوا۔ جس کے بعد پھر سے ایک بار عام انتخابات جولائی کی 25 تاریخ کو (ابھی تک) ہونے والے ہیں۔ جس کی تیاریاں آخری مراحل میں اور عمران خان کی حکومت بنانے کی تیاریاں ابتدائی مراحل میں ہیں۔ 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور مکمل ہونے کے بعد شروع ہونے والے دور میں اگر دیکھا جائے تو عمران خان کو سب سے اہم کامیابی پینامہ لیکس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں ملی۔ جنھیں ایک بار نہیں، دو با نہیں، بلکہ تین بار اور وہ بھی تاحیات نااہل کیا گیا۔ جس کے بعد سے سابق وزیراعظم عمران خان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نواز لیگ کی حکومت میں ہی احتجاج موڈ میں ہیں اور "مجھے کیوں نکالا"  کا راگ الاپنے کے بعد "ووٹ کو عزت دو" کا راگ الاپ رہے ہیں۔

عمران خان کے 5 سالہ دور احتجاج کے آخری دنوں میں سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو بھی اقامہ رکھنے کے جرم میں نااہل کردیا گیا۔ لیکن خواجہ آصف کے ہاتھوں شکست کھانے والے عثمان ڈار کی بد قسمتی کہ سپریم کورٹ نے انتخابات سے دو ماہ پہلے ان کی نااہلی ختم کردی۔ 2002، 2008 اور 2013 کے عام انتخابات کی طرح 2018 کے عام انتخابات سے پہلے بنے والے ماحول سے لگ رہا ہے کہ اب کی بار، عمران خان کی سرکار ہوگی۔ جسمیں صادق اور امین الیکٹیبلز آئے روز جوق در جوق شریف ہورہے ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس طرح سے انتخابات سے پہلے نواز لیگ کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور پہلے مشکوک حلقہ بندیوں اور پھر جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی کو علیحدہ صوبے کی یاد۔۔۔ 2018 کے انتخابات کے بعد ایسا ماحول بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ جسمیں حکومت میں تو تحریک انصاف ہوگی۔ لیکن سڑکوں پر نواز لیگ ہوگی۔ جو کہ پانچ سالہ حکومت میں رہتے ہوئے بااثر احتجاج کرنے کے تمام طریقوں سے باخوبی واقف ہے اور یقینی طور پر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں نواز لیگ کے اراکین کی تعداد تحریک انصاف کے اراکین سے زیادہ ہوگی۔ جو کہ اسمبلیوں میں بھی بھرپور احتجاج کو یقینی بنائے گی۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا نواز شریف کی طرح عمران خان کی حکومت بھی ان احتجاجوں سے خندہ پیشانی سے نبٹنے میں کامیاب ہوگی؟۔

PTI

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div