الیکشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان

Jun 02, 2018
ARTWORK: Muhammad Obair Khan
ARTWORK: Muhammad Obair Khan
[caption id="attachment_1149337" align="alignnone" width="640"] ARTWORK: Muhammad Obair Khan[/caption]

الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا، عدالت عالیہ نے نامزدگی فارمز میں ترامیم کالعدم قرار دے دی تھیں، ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔

الیکشن کمیشن میں اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں کاغذات نامزدگی فارم اور حلقہ بندیوں سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا جائزہ لیا گیا، ای سی پی نے نامزدگی فارم سے ختم کی گئی 19 شقوں اور حلقہ بندیوں سے متعلق عدالتی فیصلوں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔

مزید جانیے : الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کوکاغذات نامزدگی وصول کرنےسے روک دیا

ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن اختر نذیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے، کاغذات نامزدگی میں ترامیم کالعدم قرار دینے سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سریم کورٹ جائیں گے، فوری طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جارہا ہے، حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کرے گی، سپریم کورٹ کے فیصلے پر مستقبل کا لائحہ عمل بنائیں گے۔

تفصیلات جانیں : کاغذات نامزدگی میں ترمیم کالعدم، الیکشن کمیشن کو نئے فارم بنانے کی ہدایت

اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی زیرصدارت اجلاس میں چاروں ممبران، سیکریٹری الیکشن کمیشن اور ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن نے شرکت کی۔

اجلاس میں نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، حلقہ بندیاں کالعدم قرار دیئے جانے کے عدالتی فیصلے بھی زیر بحث آئے۔

اجلاس میں اِس بات پر مشاورت کی گئی کہ آیا نیا نامزدگی فارم تیار کیا جانا چاہئے یا موجودہ فارم میں رد و بدل کیا جائے۔

مزید دیکھیں : کاغذات نامزدگی میں تبدیلی، ایاز صادق کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکر ایاز صادق نے بھی نامزدگی فارم میں تبدیلی کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا، کہتے ہیں کہ الیکشن شیڈول آنے کے بعد فیصلہ آیا ہے، پارلیمنٹ کی قانون سازی کیخلاف عدالتی فیصلہ چیلنج کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ میں رد و بدل نہ کیا جائے، انتخابات مقررہ تاریخوں میں ہونے چاہئیں، سینیٹ کے الیکشن بھی اسی ایکٹ کے تحت ہوئے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء کا کہنا ہے کہ تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر فارم میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا تھا۔

پیپلزپارٹی کا مؤقف

پیپلزپارٹی نے بھی لاہور ہائیکورٹ کو فیصلے کو مسترد کردیا، نیئر بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن بھی 2017ء کے الیکشن ریفارمز کے تحت ہوئے تھے، دونوں ایوانوں نے ان ترامیم کی منظوری دی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ کو یہ معاملہ واپس پارلیمنٹ کی جانب بھیجنا چاہئے تھا، الیکشن کمیشن کسی بھی ترمیم کا اختیار نہیں رکھتا، کاغذات نامزدگی درست کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔

 

ECP

ELECTION

SCP

Amendments

Nomination Forms

Tabool ads will show in this div