کالمز / بلاگ

پنجاب نواز لیگ کا گڑھ نہیں رہا

تحریر: محمد اسرار احمد

اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے پنجاب سے گزرنا ضروری ہے کیونکہ پنجاب میں کامیابی حاصل کئے بغیر مرکز میں حکومت بنانا اتنا ہی مشکل ہے جیسے بغیر پیٹرول کے گاڑی چلانا۔ پنجاب میں جو بھی کامیابی سمیٹے گا وہی مرکز میں حکمرانی کا خواب دیکھ سکتا ہے۔ پنجاب میں کامیابی حاصل کرنے مطلب ہے مرکز میں کامیابی حاصل کرنا،اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں پنجاب پر ہیں۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان دونوں اسلام آباد میں حکمرانی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ دونوں میں سے کسی ایک کا خواب پورا ہوگا اور ایک کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ ویسے تو حکمران جماعت کے قائدین بھی یہ دعوی کر رہے ہیں کہ آئندہ حکومت بھی نواز لیگ کی ہوگی مگر اس دعوی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نواز لیگ کے تمام اراکین یہ جان چکے ہیں کہ اب ان کا برا وقت شروع ہو چکا ہے۔

پچھلے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز پنجاب کی 148 میں سے 116 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن موجودہ حالات میں نواز لیگ کا آدھی نشستیں حاصل کرنا بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ نواز شریف کی نااہلی سے قبل پنجاب کو نواز لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا مگر نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے بعد ان کی جماعت موتیوں کے ہار کی طرح بکھر چکی ہے۔ حکمران جماعت کے درجنوں اراکین تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ بیشتر افراد آئندہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لئے تیار نہیں جس کی وجہ نواز شریف کا بیانیہ ہے۔ نواز شریف کی تقاریر سے ان کا آئندہ کا لائحہ عمل واضح ہو گیا ہے مگر ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف محاز آرائی کی سیاست نہیں چاہتے اور وہ  اپنے بڑے بھائی کی پالیسیوں سے ناخوش ہیں۔ شاید نواز شریف سمجھتے ہیں کہ ان کی محاذ آرائی کی سیاست انہیں پھر سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا سکتی ہے جو بظاہر مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن لگتا ہے۔

نئی حلقہ بندیوں کے بعد پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشستیں 148 سے کم ہو کر 141 رہ گئی ہیں۔ پنجاب کی 141 نشستوں میں سے 50 شہری علاقوں پر مشتمل حلقوں میں تحریک انصاف کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ باقی دیہی علاقوں پر مشتمل 91 نشستوں میں کسی جماعت کا نہیں بلکہ جاگیرداروں اور الیکٹیبلس کا راج ہے۔ دیہی علاقوں میں الیکٹیبلس کے چہروں کو ہی جمہوریت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود نہیں کرتے بلکہ جاگیردار اور الیکٹیبلس عوام کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں اور شہری علاقوں کی سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے جسے علاقائی لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب کی41 نشستیں بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ سینٹرل پنجاب میں شاید مسلم لیگ ن کو زیادہ نقصان نا ہو مگر جنوبی پنجاب میں نواز لیگ خطرے میں ہے۔ جنوبی پنجاب کے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی مستعفی ہوکر جنوبی پنجاب صوبے کے وعدے پر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر۔چکے ہیں اور اب جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کی گرفت کافی مضبوط ہو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی نے 2008 کے انتخابات میں جنوبی پنجاب سے کامیابی حاصل کی تھی اور علاقے کے لوگوں کی احساس محرومی کے خاتمے کے لئے سرائیکی علاقے سے وزیراعظم کا انتخاب کیا مگر یوسف رضا گیلانی اپنے وعدے پورے نہیں کرسکے۔ پہلے پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی سب سے مضبوط جماعت تھی مگر اب تحریک انصاف کو علاقے کی مضبوط جماعت سمجھا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب میں مقابلہ تحریک انصاف اور نواز لیگ کے مابین ہوگا۔ نواز شریف کی نااہلی سے قبل پنجاب کو مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جا رہا تھا لیکن نواز شریف کی نااہلی کے بعد پنجاب کی سیاست یکدم تبدیل ہو گئی ہے اور اب جس تیزی سے لیگی رہنما تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پنجاب نواز لیگ کا گڑھ نہیں رہا۔

PUNJAB ASSEMBLY

Tabool ads will show in this div