کالمز / بلاگ

شفاف انتخابات نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر منتخب حکومت اپنی مدت مکمل کرچکی ہے، عام انتخابات 25 جولائی کو منعقد ہوں گے جس کا باضابطہ اعلان کردیا گیا، سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس (ر) ناصرالملک نے نگراں وزیراعظم کا منصب سنبھال لیا، نگراں وزیراعظم اور الیکشن کمیشن کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں پرامن اور شفاف انتخابات منعقد کرائیں۔

پاکستان میں یہ دوسرا موقع ہے جب ایک منتخب جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کی ہے، اس سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت نے پہلی مرتبہ آئینی مدت مکمل کی تھی مگر آج تک کوئی بھی وزیراعظم اپنی آئینی مدت مکمل نہیں کرسکا، ملک میں جمہوریت مضبوط ہوچکی ہے مگر ملک کا وزیراعظم مضبوط نہیں ہوسکا، جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے پرامن اور شفاف انتخابات ہونا ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں ہونے والے تمام انتخابات کی شفافیت کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عوام نے جمہوریت کیلئے طویل جدوجہد کی ہے اور بے شمار قربانیاں دی ہیں، جمہوری نظام کیلئے سابق ویراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی کے پھندے کو چوما مگر اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے آگے سر نہیں جھکایا، سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی جمہوریت بحالی کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ہم انتخابات مقررہ وقت پر ایسے شفاف طریقے سے منعقد کرائیں گے کہ یہ الیکشن ملک کی تاریخ میں ایک قابل تقلید مثال بن جائے گا مگر جب انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو آصف علی زرداری نے 2013ؑء کے عام انتخابات کو آر آو الیکشن قرار دیا، کچھ ماہ قبل ایک صحافی کے سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم نے جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے آر او الیکشن قبول کئے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا اور طویل دھرنا دیا لیکن اس دھرنے کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔

پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، اے این پی، جے یو آئی، جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگائے، حیران کن بات یہ ہے کہ حکمران جماعت نے بھی خیبرپختونخوا میں دھاندلی کے الزامات لگائے۔

طاقت کا سرچشمہ عوام ہے اور انتخابات میں جس جماعت کو عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے منتخب کرے گی اس جماعت کو آئندہ حکومت آئینی طریقہ سے منتقل کردی جائے گی اور یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے مگر بدقسمتی سے ماضی میں متنازع انتخابات نے جمہوریت کو داغدار کیا، انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے جہاں جمہوری نظام متاثر ہونے کا ڈر ہوتا ہے وہاں عوام کا جمہوری نظام سے اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے، شفاف انتخابات کے انعقاد کے ذریعے ہی لوگوں کا جمہوریت پر یقین مضبوط کیا جاسکتا ہے، جب تک لوگوں کو اپنے مینڈیٹ کے چوری ہونے کا خوف رہے گا تب تک ان کا جمہوریت پر یقین پختہ نہیں ہوگا۔

نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کو عام انتخابات اس طرح منعقد کرانے ہوں گے کہ کوئی بھی جماعت انتخابات میں دھاندلی کا الزام نہ لگائے اور عوام کو بھی الیکشن کی شفافیت کا یقین ہو، اگر 25 جولائی 2018ء کو ہونے والے انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوئے تو انتخابات پرامن اور شفاف ہوں گے اور انتخابات کے نتائج تمام جماعتوں کیلئے قابل قبول ہوں گے۔

PM

ECP

PTI

Election2018

Caretaker

Tabool ads will show in this div