کالمز / بلاگ

جمہوریت کے دس سال

Jun 01, 2018

تمام قیاس آرائیوں اور سازشوں کے باوجود بالآخر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کر ہی لی۔یہ سفر آسان نہیں تھا اور یہ جمہوری سفر پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر بھی ممکن نہیں تھا۔جمہوریت کے دس سال مکمل ہونے پر تمام سیاسی جماعتیں، تمام ادارے اور بالخصوص پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

ڈکٹیٹر مشرف کی حکومت کے خاتمے سے 2008 میں پیپلز پارٹی کے اقتدار سنبھالنے تک سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کی بحالی کے لئے بہت جدوجہد کی۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کے بعد جمہوریت کا سفر شروع ہوا تھا مگر جمہوریت کی بحالی اور انتخابات سے قبل ہی محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ محترمہ نے اپنے خون سے جمہوریت کا چراغ روشن کیا اور ان کی عظیم قربانی کی بدولت ملک میں جمہوریت بحال ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادیوں کے ذریعے حکومت بنا کر جمہوریت کی ٹوٹی پھوٹی گاڑی کو دھکا لگایا تو سازشوں اور قیاس آرائیوں کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مجھے یاد ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد بہت سے سیاسی رہنماؤں نے یہ دعوی کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نوے دن بھی نہیں چل سکے گی مگر سابق صدر آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت کے سامنے تمام سازشی عناصر بے بس دکھائی دیے۔ زرداری دور میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے دھرنے کے دوران سیاسی پنڈت کہہ رہے تھے کہ حکومت آج ختم، کل ختم مگر آصف علی زرداری نے سیاسی قوتوں کو ایک ٹیبل پر جمع کیا اور اپنے اتحادیوں کی مدد سے ہر سازش کا مقابلہ کیا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کی۔

انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو ابتداء سے ہی نواز حکومت خطرے میں رہی۔ چودہ اگست 2014 کو تحریک انصاف نے نواز حکومت کے خلاف دھرنا جو ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا ثابت ہوا۔ 126 روزہ دھرنے کا اختتام سترہ دسمبر 2014 کو ہوا۔ اس دوران عمران خان، طاہر القادری، شیخ رشید سمیت مختلف سیاسی تجزیہ کار اور صحافی روز یہ دعوی کرتے تھے کہ حکومت ختم ہونے والی ہے مگر سب قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے تو آئینی مدت مکمل کی مگر کوئی بھی وزیراعظم آئینی مدت مکمل نہیں کر سکا۔ پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ کی حکومت میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔ کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کو ایک جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ جمہوریت جیت گئی اور جمہوریت کے دشمن ہار گئے۔ ملکی تاریخ میں دوسری مرتبہ جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کر چکی ہے اور جمہوریت کے دس سال مکمل ہو چکے ہیں۔

پارلیمنٹ اور حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد اب اگلا مرحلہ شفاف اںتخابات کے انعقاد کا ہے۔ ملک میں آئندہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہوں گے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ارسال کی گئی سمری پر صدر پاکستان ممنون حسین دستخط بھی کر چکے ہیں مگر جمہوریت کے دس سال گزر جانے کے باوجود آج بھی ملک میں بے یقینی کی صورتحال ہے۔ آج بھی یہی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہوں گے۔ بہت سی سیاسی شخصیات یہ دعوی کر رہی ہیں کہ نومبر یا دسمبر سے قبل انتخابات نہیں ہوں گے۔

عوامی مقامات اور چائے کے ہوٹلوں پر بیٹھنے والے عام لوگ بھی یہی بحث کرتے نظر آ رہے ہیں کہ انتخابات ہوں گے یا نہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ انتخابات میں کسی صورت تاخیر نہیں ہوگی اور جمہوریت کی گاڑی یونہی رواں دواں رہے گی۔

 

PML N

Tabool ads will show in this div