اقلیتوں پرحملوں میں ملوث کالعدم تنظیموں کوپاکستان لگام دینے میں ناکام رہا،امریکا

دیکھا جائے تو پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو بنا تو ایک ہی مذہب کے نام پر تاہم اندرونی طور پر وہ مختلف فریقوں میں بٹا ہوا ہے۔ 27 کروڑ سے زائد کی آبادی پر مشتمل اس ملک میں اکثریت سنی مسلمان پر مشتمل ہے، جب کہ التشیع کا نمبر اس کے بعد آتا ہے، دیگر فرقے بھی کم و بیش اچھی تعداد میں اس ملک میں اپنا ایک وجود رکھتے ہیں، جس میں احمدی بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔

پاکستان کا وجود سال 1947 میں عمل میں آیا، تاہم اتنے سال گزرنے کے باوجود یہاں بسنے والے دیگر چھوٹے فرقوں اور اقلیتوں کے حقوق اور جان کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔

جاری کردہ نئی امریکی رپورٹ میں ساؤتھ ایشیاء ٹیررازم پورٹل کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سال کے دوران فرقہ وارانہ تشدد سے 231 افراد قتل اور 691 زخمی ہوئے۔

مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکا کی سالانہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے گروہ پاکستان میں اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور حکومت ان کے خلاف کوئی خاطرخواہ اقدامات کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

اقلیوں اور دیگر فرقوں کو عام طور پر نشانہ بنانے کے پیچھے کالعدم لشکر جھنگوی اور کالعدم طالبان ملوث ہے، جو اکثر مواقع پر ان کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔

سول سوسائٹی تنظیموں سے حاصل شدہ اعدادو شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر احمدیوں سمیت دیگر اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور ظلم و جبر جاری ہے، رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیموں سے وابستہ فرقہ وارانہ گروہ عیسائیوں، احمدیوں، صوفیوں اور اہل تشیع خصوصاً ہزارہ برادری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

جاری کردہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رواں سال فروری میں نامور وکیل عاصمہ جہانگیر کی وفات سے اقلتیوں اور خواتین کے حقوق جدوجہد کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت توہین رسالت سے متعلق بھی عملی اور جامع قانون سازی میں ناکام رہی ہے، یہ ایک ایسا فعل ہے، جو غیر مسلموں اور آزاد پسند مسلمانوں کے خلاف بطور ہیتھیار استعمال کیا گیا ہے، ایسے واقعات میں گزشتہ سال سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو تحال جاری ہے۔

رپورٹ میں توہین رسالت کے جھوٹے الزام پر مقتول مشال خان کا بھی خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت قوانین کے تحت گزشتہ سال 50 افراد کو گرفتار اور 17کو سزائے موت سنائی گئی۔

مشال خان مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں صحافت کا طالب علم تھا جسے گزشتہ برس 13 اپریل کو مشتعل افراد نے توہین رسالت کا الزام لگا کر قتل کردیا تھا، تاہم امریکا مذہبی آزادی کی پامالی پر خاموش تماشائی نہیں بننے گا۔

رپورٹ جاری کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ہمارا مشن مذہبی آزادیوں کا دفاع کرنا ہے لیکن مذہبی آزادی کی پامالی پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔

اس حوالے سے امریکا مذہبی آزادی پر پہلی بار وزارتی کانفرنس کی میزبانی کرے گا، اطلاعات کے مطابق کانفرنس 25 اور 26جولائی کو واشنگٹن میں کی جائے گی۔ مائیک پومپیو کے مطابق اس کانفرنس کے دوران نئے خیالات کے اظہار کا موقع دیا جائے گا۔

رپورٹ میں آپریشن ضرب عضب کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے سال 2014 میں شروع ہونے والے اس آپریشن سے مذہبی منافرت پھیلنے والی کالعدم تنظیموٕں کے حملوں میں کمی آئی ہے، جب کہ حکومت کی جانب سے مختلف مذہبی جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر خصوصی سیکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

مذہبی آزادی سے متعلق جاری اس رپورٹ میں اکتوبر سال 2017 میں الیکشن ریفارمز بل میں احمدیوں کے سیکشن کو خارج کرنے اور فیض آباد دھرنا اور حلف نامے میں تبدیلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جب کہ رپورٹ میں حافظ سعید سے متعلق بھی تفصیلی تبصرہ شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بھارت میں آباد مسلمانوں پر بھی انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے حملوں پر شدید تنقید اور مذمت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے دسمبر 2017 میں پاکستان کو خصوصی واچ لسٹ میں شامل کیا تھا۔

TALIBAN

US think tank

Hindu Extremist

MINORITIES

Mashal Khan

religious freedom

Tabool ads will show in this div